Shair

شعر

لفظ تو سب کے اک جیسے ہیں، کیسے بات کھلے؟
دنیا داری کتنی ہے اور چاہت کتنی ہے!

(امجد اسلام امجد)

تری چاہت کے سناٹے سے ڈر کر
ہجومِ زندگی میں کھو گئے ہم

(شہرت ‌بخاری)

دانش و عقل و خرد چل دیے سب چاہت میں
چھٹی پاکر نہ کوئی طفل دبستاں ٹھہرا

(الماس درخشاں)

غرق دریائے خجالت ہوگئے چاہت سے ہم
آبرو جتنی بہم پہنچائی تھی پانی ہوگئی

(رشک)

تم سے راسخ اٹھ سکیں گے صدمے چاہت کے کہاں
ڈوبتا ہے جی ہمارا نام سن کر چاہ کا

(راسخ)

نگوڑی چاہت کو کیوں سمیٹا عبث کی جھک جھوری جھیلنے کو
دو گانا پڑ جائے پٹکی ایسی تمہارے اٹھکیل کھیلنے کو

(انشا)

First Previous
1 2 3 4
Next Last
Page 1 of 4

Poetry

Pinterest Share