Shair

شعر

تم سے راسخ اٹھ سکیں گے صدمے چاہت کے کہاں
ڈوبتا ہے جی ہمارا نام سن کر چاہ کا

(راسخ)

چاہت بتوں کی ہے کہ خدائی کا روگ ہے
آزاد دیر عشق کے آزار سے ہوا

(رشک)

آنکھ چاہت کی ظفر کوئی بھلا چھپتی ہے
اس سے شرماتے تھے ہم‘ ہم سے وہ شرماتا تھا

(بہار شاہ ظفر)

ہر جنم میں اسی کی چاہت تھے
ہم کسی اور کی امانت تھے

(بشیر بدر)

سُنی سنائی بات نہیں‘ یہ اپنے اوپر بیتی ہے
پھول نکلتے ہیں شعلوں سے چاہت آگ لگائے تو

(عندلیب شادانی)

آنسو کو کبھی اوس کا قطرہ نہ سمجھنا
ایسا تمہیں چاہت کا سمندر نہ ملے گا

(بشیر بدر)

First Previous
1 2 3 4
Next Last
Page 1 of 4

Poetry

Pinterest Share