• دم ہتنگ آگیا اللہ رے طولِ شبِ ہجر
    ہیں سرِ شام سے مشتاق سحر کی آنکھیں
    سحر( نواب علی)
  • نے مروت نے کبھی آنکھیں برابر تک نہ کیں
    نالہ کس حسرت سے منہ تکتا رہا تاثیر کا
    شاد
  • شب آنکھیں کھلی رہتی ہیں ہم منتظروں کی
    جوں دیدۂ انجم نہیں ہیں خواب سے واقف
    میر تقی میر
  • رہتی ہیں آنکھیں بند تصور میں یار کے
    تارِ نگہہ سے اپنا بندھا ہے خیال دوست
    آتش
  • آنکھیں بے نور ہوئیں بالوں نے بھی بدلا رنگ
    صبح پیری سے ہوئی جسم کی تعمیر سفید
    رشک
  • یاں آنکھیں مندتے دیر نہیں لگتی میری جاں
    میں کان کھولے رکھتا ہوں تیرے شتاب ہو
    میر
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 61

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter