• رشک ریاض خلد ہیں رنگیں عذار دوست
    آنکھیں کہاں سے لاؤں جو دیکھوں بہار دوست
    شاد عظیم آبادی
  • آنکھیں روئی ہوئی، آواز ہے بھرائی ہوئی، باتیں گھبرائی ہوئی
    اس سے تو اور کسی بھید کا ملتا ہے پتا شاد قسمیں تو نہ کھا
    شاد عظیم آبادی
  • نرگس ہیں آنکھیں اور گل زنیق وہ ناک ہے
    رخسار دونوں گل ہیں گل یاسمین جبیں
    جبیں
  • کیا ڈیٹھ یہ آنکھیں ہیں کہ لڑتی ہیں انھیں سے
    پردوں میں چھپائے ہوئے سب حسن انھیں کا
    شوق قدوائی
  • سوجگہ اس کی آنکھیں پڑتی ہیں
    جیسے مست شران پہۓ دونوں
    میر
  • یہ آنکھیں گئیں ایسی ہوکر در افشاں
    کہ دیکھے سے آیا ترا برگہر بار
    میر تقی میر
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 61

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter