• میری اس کی جو لڑ گئیں آنکھیں
    ہوگئے آنکھوں ہی میں دو دو بچن
    درد
  • ہجوم از بس تماشائی کا تیرے قد پہ ہے پیارے
    بسان دستہ نرگس ز سرتاپا رسی آنکھیں
    سودا
  • کنار نہر مسافر نے کلفتیں وہ سہیں
    کہ بار بار حبابوں کی آنکھیں پھوٹ بہیں
    شمیم
  • پانی تمھیں مل جائے عنایت سے نبی کی
    ٹھنڈی رہیں آنکھیں مرے مظلوم اخی کی
    حیدرحسین
  • خواب نگر ہے آنکھیں کھولے دیکھ رہا ہُوں
    اُس کو اپنی جانب آتے دیکھ رہا ہُوں
    امجد اسلام امجد
  • جب تلک آنکھیں کھلی ہیں دکھ پہ دکھ دیکھے گایار
    مند گئیں جب انکھڑیاں تب سوز سب آنند ہیں
    سوز
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 61

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter