• آنکھیں جو چیر چیر کے دیکھا ادِھر اَدھر
    تادور کوئی دوست نہ ساتھی پڑا نظر
    یاور اعظمی
  • بصارت نے کسی کی انحطاط عمر میں اکبر
    بصیرت ہے تو آنکھیں مجھ سے اب آنکھیں چراتی ہیں
    اکبر
  • امجد وہ آنکھیں جھیل سی گہری تو ہیں مگر
    ان میں کوئی بھی عکس مرے نام کا نہیں
    امجد اسلام امجد
  • نرگس ہیں آنکھیں اور گل زنیق وہ ناک ہے
    رخسار دونوں گل ہیں گل یاسمین جبیں
    جبیں
  • اب تو آنکھیں نیل پیل کر جتاتا ہے وہ شوخ
    بزم میں آ چشم جیرت سے نہ دیکھا کر ہمیں
    جرأت
  • جھپکی ہیں آنکھیں اور جھکی آتی ہیں بہت
    نزدیک شاہد آیا ہے ہنگام خواب اب
    میر
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 61

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter