• کیا کیا عجز کریں ہیں لیکن پیش نہیں کچھ جاتا میر
    سر رگڑے ہیں آنکھیں ملے ہیں اُس کے حنائی پا سے ہم
    میر تقی میر
  • ٹھوکریں کھا کر آتا ہے خیال
    ہم بھی چل سکتے تھے آنکھیں کھول کر
    صبا ‌اکبر ‌آبادی
  • وہ آنکھیں آج ستارے تراشتی دیکھیں
    جنہوں نے رنگِ تبسّم دیا زمانے کو
    بیگم ‌سحاب ‌قزلباش
  • گل ہی کی اور ہم بھی آنکھیں لگا رکھیں گے
    ایک آدھ دن جو موسم اب کی وفا کرے ہے
    میر تقی میر
  • آنکھیں جو ہوں تو عین ہے مقصود ہر جگہ
    بالذات ہے جہاں میں وہ موجود ہر جگہ
    میر
  • آنکھیں اس واسطے خالق نے عنابت کی ہیں
    آدمی دیکھے کہ انسان کی حقیقت کیا ہے
    امان علی
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 61

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter