• نہیں ثانی ہوا عالم میں اب اے خوش نظر تیرا
    اگر چہ ہم نے دیکھی ہیں جہاں میں بے شمار آنکھیں
    مرزا علی
  • گریوں ہی ہے تو واں نہ بولینگے
    اپنی آنکھیں کوئی سیے کیسے
    نظام
  • بادام دو جو بھیجے ہیں بٹوے میں ڈال کر
    ایما یہ ہے کہ بھیج دو آنکھیں نکال کر
    ذوق
  • ہوا کا لمس ہے پاؤں میں بیڑیوں کی طرح
    شفق کی آنچ سے آنکھیں پگھل نہ جائیں کہیں!
    امجد اسلام امجد
  • مرگئے یہ ہم سے آنکھیں نہ تونے ملائیاں
    اس کا بر اہو جس نے یہ طوریں سکھائیاں
    افسر
  • دیکھتے ہی اس کا ہیبت سے گیا سینہ دھڑک
    مند گئیں آنکھیں وہیں اور کھا گئیں پلکیں جھپک
    نظیر
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 61

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter