• آنکھیں لڑائیں ان سے کہاری نے بانس کھائے
    اس کا بھی میرے چونڈے پہ ڈولا اوچھل گیا
    جان صاحب
  • آنکھیں کھولے یہ ہوشیار اوٹھے
    چارپائی کو لات مار اوٹھے
    عروج لکھنؤی
  • کیا ڈیٹھ (ڈھیٹ)یہ آنکھیں ہی کہ لڑتی ہیں انہیں سے
    پردوں میں چھپائے ہوئے سب حسن انہیں کا
    شوق قدوائی
  • آب شور اشک کا آنکھیں بھی مری لے دوڑیں
    ان کے نتھ کے جو کبھی ہوگئے گوہر میلے
    انتخاب رامپور
  • جوبیٹھیں آنکھیں تو پلکیں بھی کوئی پل کی ہیں
    رہی ہیں بس یہی آنکھوں کی سوئیاں باقی
    مہتاب داغ
  • روتے روتے مری آنکھیں ہوئیں ساون بھادوں اب خدا کے لیے مجکو نہ ستائے بادل
    نواب
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 61

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter