Shair

شعر

جو کوئی نرگس کی خوش چشماں انکھیوں کی سپادے ہے
وہ شوخی سیں اسے گلشن میں خوب آنکھیں دکھاوے ہے

(شاکر ناجی)

اس قدر پھیلا دہن تیر اکہ گھونگھا بن گیا
اس قدر سمٹیں تری آنکھیں کہ ٹیاں ہوگئیں

(ظریف لکھنوی)

آنکھیں دیا سی روشن ہاتھون میں مے کا پیالہ
ہوں دل سے داس تیرا سن اے مرے دہالا

(نظیر)

ضد دلاتا ہے عبث آنکھیں چُھپا کر مجھ کو یار
سوزِ دل سے جسمِ خاکی توتیا ہوجائے گا

(آتش)

بحر روئے ہو ضرور آج کسی کے لیے تم
سرخ سرخ آنکھیں بھی ہیں اور ہے بھاری آواز

(ریاض البحر)

آنکھیں تلووں سے لگاتا ہوں تو وہ از رہ ناز
سرہٹاتا ہے پرے مار کے ٹھوکر میرا

(جرأت)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 61

Poetry

Pinterest Share