• ہے نو بہار گلشن آفاق دیدنی
    آنکھیں کبھی تو اے دل بیہوش کھول دے
    مصحفی
  • اس کے عارض سے ہوا تھا جو دوچار آئنے میں
    رہتا ہے آنکھیں لگائے ہوئے یار آئنے میں
    رشک
  • چمن کی بزم میں جاتی ہے اب جدھر آنکھیں
    اسی کے حسن کو لاتی ہیں ڈھنڈھ کر آنکھیں
    شمیم
  • دیکھا زرہ نے چار طرف رن میں بارہا
    حداد نے بنائی ہیں آنکھیں ہزارہا
    دبیر
  • آیاجو غیظ میں پسر شیر کردگار
    دیدہ دلیر آنکھیں چھپا کر ہوے فرار
    سجاد راے پوری
  • شب آنکھیں کھلی رہتی ہیں ہم منتظروں کی
    جوں دیدۂ انجم نہیں ہیں خواب سے واقف
    میر تقی میر
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 61

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter