Word of the dayآج کا لفظ

Ephemeral

سرگوشی

MEANS: چند روزہ

معنی: کانا پُھوسی

New Featuresخُصوصِّیت

Couplet of the day

آج کا شعر

Click on the below image to open up the complete gallery. مکمل گیلری کو دیکھنے کے لئے نیچے دی گئی تصویر پر کلک کریں۔
Admin/ShairGallery/1.png

Urdu Encyclopedia

اردو انسائیکلوپیڈیا

حفیظ جالندھری

Description

تفصیل

ابوالاثر حفیظ الدین محمد ، حفیظؔ جالندھری ۱۴ ؍ جنوری ۱۹۰۰ ء جالندھر (پنجاب) میں پیدا ہوئے اور ۲۱ ؍ دسمبر ۱۹۸۲ء کو لاہو ر میں انتقال کیا ۔ حفیظ کے والد فوج کی یونیفارم تیار کیا کرتے تھے،انھوں نے بہت زور دیا کہ حفیظ تعلیم پر خاطر خواہ توجہ دیں لیکن بے سود۔ تنگ آکر وہ حفیظ کو ماہنامہ ساقی کے دفتر لے گئے اور یوں حفیظ کی شاعرانی زندگی کا بہت نوعمری ہی سے آغاز ہو گیا ۔حفیظ کی شہرت کا آغاز پاکستان کا قومی ترانہ تخلیق کرنے سے ہوا۔اس کام کے لیے معروف شاعر مجاز ؔ کو بھی منتخب کیا گیا تھا لیکن ’’’جیوری‘‘ کے اراکین نے حفیظ ؔ کا لکھا ہوا ترانہ منظور کیا اور جناب احمد جی چھاگلہ کی ترتیب دی ہوئی دُھن میں وہ الفاظ پرو دیے گئے ،اس ترانے میں حفیظؔ نے اُردو زبان کا صرف ایک لفظ ’’کا‘‘ استعمال کیا ہے ، باقی تمام ترانہ عربی اور فارسی الفاظوں پر مشتمل ہے۔فارسی اور عربی سے رغبت کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ حفیظؔ نے نامور فارسی شاعر غلام قادر بلگرامی سے اکتسابِ فیض کیا اور ان زبانوں کے علاوہ انگریزی زبان میں بھی بے انتہا ریاضت اور محنت کی۔ ؂ پاک سر زمین شاد باد کشورِ حسین شاد باد تو نشانِ عزمِ عالی شان ارضِ پاکستان پاک سرزمین’’ کا‘‘ نظام قوتِ اخوتِ عوام قوم ، ملک ، سلطنت پائندہ تابندہ باد شاد باد منزلِ مُراد ۱۹۲۵ء میں حفیظ ؔ سکھر تشریف لے گئے تو وہاں مشاعروں میں قیام کے دوران انہوں نے اپنی شہرۂ آفاق نظم ’’ رقاصہ‘‘ کہی، جس کا مطلع ہے ’’ پلائے جا پلائے جا ابھی تو میں جوان ہوں !‘‘ ملکہ پُکھراج اور اُن کی صاحب زادی طاہرہ سیّد نے اس نظم کو گاکر زندہ دوام کردیا ۔ ’’رقاصہ‘‘ ابھی تو میں جوان ہوں ابھی تو میں جوان ہوں ہوا بھی خوش گوار ہے گُلوں پہ بھی نکھار ہے ترنمِ ہزار ہے بہار پُر بہار ہے کہاں چلا ہے ساقیا ادھر تولوٹ ادھر تو آ ارے یہ دیکھتا ہے کیا اُٹھا سبو ، سبو اُٹھا سُبو اُٹھا ، پیالہ بھر پیالہ بھر کے دے ادھر چمن کی سمت کر نظر سماں تو دیکھ بے خبر وہ کالی کالی بدلیاں اُفق پہ ہو گئی عیاں وہ اِک ہجومِ مے کشاں ہے سُوئے مے کدہ رواں یہ کیا گُماں ہے بد گُماں سمجھ نہ مجھ کو ناتواں خیالِ زُہد ابھی کہاں ابھی تو میں جوان ہوں عبادتوں کا ذکرہے نجات کی بھی فکر ہے جنون ہے ثواب کا خیال ہے عذاب کا مگر سنو تو شیخ جی عجیب شے ہیں آپ بھی بھلا شباب و عاشقی الگ ہوئے بھی ہیں کبھی حسین جلوہ ریز ہوں ادائیں فتنہ خیز ہوں ہوائیں عطر بیز ہوں تو شوق کیوں نہ تیز ہوں نگار ہائے فتنہ گر کوئی ادھر کوئی ادھر اُبھارتے ہوں عیش پر تو کیا کرے کوئی بشر چلو جی قصہ مختصر تمہار ا نکتۂ نظر درست ہو تو ہو مگر ابھی تو میں جوان ہوں حفیظ ؔ تحریکِ اپکستان کے سرگرم کارکن تو تھے ہی لیکن اس کے ساتھ انھوں نے ادب سے ناتا جوڑے رکھا۔آپ نے اردو میں ’’شاہ نامہ اسلام ‘‘ تحریر کیا تو فردوسی کے فارسی ’’ شاہ نامہ‘‘ کے سامنے رکھا جاسکتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ حفیظؔ نے بچوں کے ادب سے بھی اپنا ناتا جوڑا اور اُس وقت کے مقبول بچوں کے پرچے ماہنامہ’’پھول‘‘ لاہور کی ادارت بھی کی۔اس وقت حفیظؔ نے بچوں کے لیے جو نظمیں کہیں وہ امر ہوگئیں۔ مثلاً ’’ تڑم تم تڑم بھئی !‘‘ ، ’’ بول میرے مُرغے !‘‘ ، وغیرہ ابھی تک بچوں کی زبانوں پر ہیں۔اُس وقت کے بچے فی زمانہ بوڑھے ہیں لیکن اپنی نسل کو حفیظ ؔ کی نظمیں سُناتے ہیں۔ہم اپنے قاری بچوں کے لیے بھی حفیظؔ صاحب کی ایک نظم اُن کی دل چسپی کے لیے پیش کرتے ہیں! بول میرے مُرغے بول میرے مُرغے کُکڑوں کُوں خوب اکڑ کر چڑھ کھانچے پر ہاں اب تن جا مُرغا بن جا اپنے بازو تول میرے مُرغے بول میرے مُرغے ککڑوں کُوں ککڑوں کُوں ہاں ہاں یوں ککڑوں کُوں کُکڑوں کُوں سارے لڑکے نُور کے تڑ کے سو کر اُٹھیں گے اور سُنیں گے تیرا نرالا گیت میرے مُرغے بو ل میرے مُرغے ککڑوں کُوں صاحبو ! ہم تو یہی کہتے ہیں کہ ہر بڑے لکھنے والے نے اپنے لکھنے کا آغاز بچوں کے ادب سے کیا ، جدید اُردو میں ہے ہی کیا؟ سوائے بچوں کے ادب کے !

Shair Collection

اشعار کا مجموعہ

Compilation of top 20 hand-picked Urdu shayari on the most sought-after subjects and poets

انتہائی مطلوب مضامین اور شاعروں پر مشتمل 20 ہاتھ سے منتخب اردو شاعری کی تالیف

SEE FULL COLLECTIONمکمل کلیکشن دیکھیں