Shair

شعر

کیا غضب درد اِدھر اور اُدھر سے اُٹھا
دل پہ رکھا جو کبھی ہاتھ جگر سے اُٹھا

(الماس درخشاں)

سرِ طاقِ جاں نہ چراغ ہے پس بامِ شب نہ سحر کوئی
عجب ایک عرصۂ درد ہے، نہ گمان ہے نہ خبر کوئی

(امجد اسلام امجد)

لگیا ہے ضروراب منجے سومنا
سجن تھے درد دوکھ جتنا ہوا

(غواصی)

درد دل کہہ لوں جو آئے یار جانی وقت نزع
اتنی مہلت دے مجھے اے جاں فشانی وقت نزع

(شرف)

دوا کرنے یاں آدمی کام نین
کہ یو درد آدمیں کوں کچ فام نیں

(قطب مشتری)

درد نے جا اس میں کی اک سوز پنہاں ہو گیا
للہ الحمد اب مرا دل بھی مسلماں ہو گیا

(اکبر)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 65

Poetry

Pinterest Share