Shair

شعر

بارش کی دعاؤں میں نمی آنکھ کی مل جائے
جذبے کی کبھی اتنی رفاقت بھی بہت تھی

(پروین ‌شاکر)

اِک ایسے ہجر کی آتش ہے میرے دل میں جِسے
کسی وصال کی بارش بُجھا نہیں سکتی

(امجد ‌اسلام ‌امجد)

کام آئی محمد کے نواسے کی گزارش
اللہ نے کی اس پہ درُ لعل کی بارش

(حیدر حسین)

پھلوں کی باغ بانی میں تو بارش کی دعا ہوگی
گزرتے خوب صورت بادلوں کو کون دیکھے گا

(بشیر بدر)

آبِ نیساں سے آبننا ہے زمیں پر بھی ہووے گا
بہاراں کی بارش سے سیپو میں موتی،بنسلوچن

(سورداس)

بہت سے لوگ دل کو ا طرح محفوظ رکھتے ہیں
کوئی بارش ہو یہ کاغذ ذرا بھی نم نہیں ہوتا

(بشیر بدر)

First Previous
1 2 3 4 5 6
Next Last
Page 1 of 6

Poetry

Pinterest Share