Shair

شعر

اِک ایسے ہجر کی آتش ہے میرے دل میں جِسے
کسی وصال کی بارش بُجھا نہیں سکتی

(امجد ‌اسلام ‌امجد)

ساری رات برسنے والی بارش کا میں آنچل ہوں
دن میں کانٹوں پر پھیلا کو مجھ کو کھینچا جاتا ہے

(بشیر بدر)

بے موسم بارش کی صورت، دیر تلک اور دُور تلک
تیرے دیارِ حُسن پہ میں بھی کِن مِن کِن مِن برسوں گا

(امجد اسلام امجد)

روتے روتے یوں دیدہ خود کام سفید
جوشِ بارش سے ہوں جُون ابرِ سیہ فام سفید

(محب)

شاید کوئی خواہش روتی رہتی ہے
میرے اندر بارش ہوتی رہتی ہے

(احمد ‌فراز)

میں اب کی فصل بارش میں بناتا اس کا پر نالا
جو ہوتا بانس کا ٹونٹا الف چاک گریباں کا

(ظریف لکھنؤی)

First Previous
1 2 3 4 5 6
Next Last
Page 1 of 6

Poetry

Pinterest Share