• لفظ تو سب کے اک جیسے ہیں، کیسے بات کھلے؟
    دنیا داری کتنی ہے اور چاہت کتنی ہے!
    امجد اسلام امجد
  • آنکھ چاہت کی ظفر کوئی بھلا چھپتی ہے
    اس سے شرماتے تھے ہم‘ ہم سے وہ شرماتا تھا
    بہار شاہ ظفر
  • چاہت کی گرفتار بٹیریں، لوے، تیتر
    کبکوں کے تدرووں کے بھی چاہت میں بندھے پر
    نظیر
  • نگوڑی چاہت کو کیوں سمیٹا عبث کی جھک جھوری جھیلنے کو
    دو گانا پڑ جائے پٹکی ایسی تمہارے اٹھکیل کھیلنے کو
    انشا
  • جو فکر وصل ہوتی ہے چاہت میں جا بہ جا
    اُس بیقرار نے بھی کیا سب وہ ٹھک ٹھکا
    نظیر
  • نام اُلفت کا نہ لوں گا جب تلک ہے دم میں دم
    تو نے چاہت کا مزا اے فتنہ گر دکھلادیا
    مومن
First Previous
1 2 3 4
Next Last
Page 1 of 4

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter