Shair

شعر

تنقید کا اصول ہے جمہوریت کی جان
مسلک ہے ناقدان وطن کا مگر غلط

(رئیس امروہوی)

ان کا تشکر بھی ہے فرض دل و جان پر
روح وطن بن گئے‘ جو مرے خونیں قبا

(سمندر)

آہ جس روز سے چھوٹا ہے وطن غنچے کا
نہ کھلا دل کیے یہاں لاکھ جتن غنچے کا

(آغا جان دہلوی)

فراقِ خلد سے گندم ہے سینہ چاک اب تک
الٰہی ہو نہ وطن سے کوئی غریب جدا

(نامعلوم)

فانی ہم تو میت ہیں‘ جیتے جی بے گور و کفن
غربت جس کو راس نہ آئی اور وطن بھی چھوٹ گیا

(فانی)

تلوے مرے کھجلاتے ہیں کرتا ہوں سفر میں
ہے ناک میں دم ہاتھ سے یاران وطن کے

(فیض)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 11

Poetry

Pinterest Share