Shair

شعر

وہ حسیں گھر میں نہ ٹھہرے تو تعجب کیا ہے
منزلوں دور وطن سے مہ کنعاں ٹھہرا

(الماس درخشاں)

فانی ہم تو میت ہیں‘ جیتے جی بے گور و کفن
غربت جس کو راس نہ آئی اور وطن بھی چھوٹ گیا

(فانی)

صحرا میں جو بلبل ہوکہے کیا وہ چمن کی
آوارہ غبت کو خبر کیا ہے وطن کی

(اکبر آبادی)

بس حبّ وطن کا جپ چکے نام بہت
اب کا کرو کہ وقت ہے کام کا یہ

(حالی)

لوگ جو خاکِ وطن بیچ کے کھا جاتے ہیں
اپنے ہی قتل کا کرتے ہیں تماشہ کیسے

(احمد ‌ندیم ‌قاسمی)

جب وہاں چمکے افق میں زہر دامان سحاب
میری جانب سے وطن کو اس طرح کرنا خطاب

(مطلع انوار)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 11

Poetry

Pinterest Share