Shair

شعر

کلیجہ پکڑ ماں تو بس رہ گئی
گلی کی طرح سے بکس رہ گئی

(میرحسن)

صبر کی سل غم اولاد میں دل پر دھر لوں
کیسے ماں ہو کے بھلا چھاتی کو پتھر کرلوں

(شمیم)

ہنستی ہوئی جو پھرتی ہیں ساتھ ان کے گوپیاں
ہیں ان میں رادھا ایسی کہ تاروں میں چندر ماں

(نظیر)

ماں کی آنکھیں چراغ تھیں جس میں
میرے ہمراہ وہ دعا بھی تھی

(امجد اسلام امجد)

ماں سے سوا شفیق ہیں اور حق شناس ہیں
بچے تمہارے فاطمہ زبرا کے پاس ہیں

(مراثی)

کلی کلی میں ہے دھرتی کے دودھ کی خوشبو
تمام پھول اُسی ایک ماں کے جائے ہیں

(احسان ‌دانش)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 14

Poetry

Pinterest Share