• ہر دھ میں جس کا جی موا کیا ہے پلنگ نہالی اسے
    سکھ ہے تو ماں جی کوں بھلا سونا زمیں کا ٹاٹ
    ہاشمی
  • نشٹ کا یہ راج ہے نہ فرق برتے دیکھ
    سارشبد ٹکسار ہے ہردے ماں ہے وویک
    کبیر
  • آنکھیں بچھائیں ماں نے جو تم گھٹینوں چلے
    تلووں سے اس نے دیدہ حق میں سدا ملے
    انیس
  • رواں ہے ہجر میں تختے پہ ماں اور اک بّچا
    کنارہ دور ہے دم ٹوٹتا ہے مادر کا
    نقوشِ مانی
  • سو ماں باپ کوں شہ دلاسا دے کر
    چلیا اپنے معشوق کے شہر ادھر
    قطب مشتری
  • اگلی پڑتی تھیں جو بیمار کی آنکھیں پیہم
    رات بھر سر کو دباتی رہی ماں کشتہ غم
    شمیم
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 14

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter