• سونا کبھی شوہر کو میسر نہیں ہوتا
    عورت انہیں باتوں سے ترا گھر نہیں ہوتا
    نازنی
  • قباحت سوں آزاد دے بے شمار
    وہیں گھر تے عورت کوں بھایا بہار
    غواصی
  • نہیں مانے گی یہ جھگڑالو عورت ہے
    فساد کی جڑ ہے یہ چڑالو عورت ہے
    دلاور
  • ہے عورت اک لطیف جنس اپنے مرد کے لیے
    یہ فطرت اس کی ہے کہ اس کی سمت اس کا دل کھنچے
    عالم
  • و فر زند سو ہے یہی نو نہال
    وو عورت امانت ہے اس کی حلا
    غواصی
  • ہوئی پیدا عورت یو دو کام کوں
    بدھانی کی ہے بیل ہور کام کوں
    ہاشمی
First Previous
1 2 3 4 5
Next Last
Page 1 of 5

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter