URDU encyclopedia

اردو انسائیکلوپیڈیا

search by category

قسم کے ذریعہ تلاش کریں

search by Word

لفظ کے ذریعہ تلاش کریں

غیر الہامی مذاہب

Name In English

Description

تفصیل

ہر وہ نظام حیات جس کی بنیاد احکامِ الٰہی پر نہ ہو غیر الہامی مذاہب کہلاتے ہیں۔ خواہ اس سے عمل کرنے والوں کی تعداد کروڑوں‘ لاکھوں‘ ہزاروں یا سینکڑوں میں ہی کیوں نہ ہو۔ ان غیر الہامی مذاہب کا ذکر کیا جاتا ہے کہ جن کا اثر ایک عرصہ تک انسانی معاشرے پر رہا اورجنہوں نے مختلف ادوار میں انسانوں کو اپنی طرف راغب کئے رکھا۔ ان میں دنیا کی قدیم ترین تہذیبیں بھی شامل ہیں۔ اور قبائل بھی۔ جن کا ذکر درج ذیل ہے۔ ١۔ کسدی قبائل سے پہلے بابل پر دو سو سال سے زائد عرصہ تک حمورابی خاندان کی حکومت رہی جن کے اپنے عقائد و نظریات تھے۔ کسدیوں نے پانچ سو سال تک حکومت کرتے ہوئے آفتاب کو مقدس باپ اور زمین کو مقدس ماں کا درجہ دے رکھا تھا۔ ٢۔ کسدیوں کے بعد آشوریوں نے بابل کے داوتاؤں کو برقرار رکھتے ہوئے کچھ نئے دیوتاؤں کا اضافہ کیا جن میں ’’بعل‘‘ کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل تھی۔ ٣۔ سمیری مذہب کی تاریخ تقریبا ساڑھے تین ہزار سال قبل مسیح قرار دی جاسکتی ہے ان کا عقیدہ تھا کہ سارے دیوتاؤں کو ایک ہستی مطلق نے پیدا کیا ہے۔ ساری کائنات اسی کے تصرف میں ہے البتہ اس ہستی مطلق کو ہر ریاست میں الگ نام سے پکارا جاتا رہا ہے۔ ٤۔آسٹریلوی قبائل بھی ’’بائی‘‘ کے نام سے قادرِ مطلق ہستی کے قائل رہے جسے وہ خالقِ کل قرار دیتے اور حیات بعد الممات پر یقین رکھتے تھے۔ ٥۔افریقی قبائل کے عقائد و نظریات مختلف رہے۔ وہ باپ دادا کی قبروں کی پرستش کرتے تھے اور ساتھ ہی ایک اعلیٰ ترین ہستی کا تصور رکھتے جو ساری کائنات کا خالق قرار دیا جاتا۔ ٦۔ اسی طرح کے عقائد و نظریات ملائشیا کے وحشی قبائل اور امریکہ کی وحشی قوموں میں بھی پائے جاتے تھے۔ غرض یہ کہ پوری دنیا کسی نہ کسی عقیدہ کے تحت زندگی بسر کرتی رہی کررہی ہے اور کرتی رہے گی یہی عقائد ان کا مذہب ہے۔ ٧۔انسان کی اصل فطرت و جلبت بدی ہے۔ لیکن باہر کی تربیت اس کو خوشنما کردیتی ہے وہ اپنے خصائص فطرت کے لحاظ سے ایک خالص حیوان ہے۔ انسان غصہ وانتقام میں درندہ بن جاتا ہے یہ مذہب صرف ’’مذہب شر‘‘ ہے وہ ہر چیز کو شر کی نظر سے دیکھتا ہے۔ یونان میں ’’دیو جانس کلبی‘‘ (ڈائیگونس) اسی مذہب کا پیشوا گزرا ہے۔ ٨۔ ایک اور مذہب ہے جو انسان کی فطرت کو بالکل سادہ دیکھتا ہے یعنی اس میں نہ نیکی ہے اور نہ بدی وہ محض ایک منفعل‘ اثر پذیر انسان ہے۔ وہ اپنے ساتھ کچھ نہیں لاتا جو پاتا ہے وہ لے لیتا ہے۔ حکما کے یونان یورپ کے حکما کے اخلاق کا بڑا گروہ آج بھی اس کا پیروکار ہے۔ ٩۔ تیسرا مذہب جامع و خیر و شر کا ہے۔ نیکی اور بدی دونوں اس کی فطرت میں موجود ہیں۔ دنیائے قدیم و جدید دونوں میں اس مذہب نے خوب ترقی کی۔ ارسطو سے لے کر غزالی و رازی تک اس مذہب کی تعلیمات موجود ہیں۔

Poetry

Pinterest Share