URDU encyclopedia

اردو انسائیکلوپیڈیا

search by category

قسم کے ذریعہ تلاش کریں

search by Word

لفظ کے ذریعہ تلاش کریں

Baha'i بہائی مذہب

Name In EnglishBaha'i

Description

تفصیل

تقریبا دو صدی قبل ١٨٤٤ میں شیراز کے ایک نوجوان سید علی محمد نے جو ’’باب‘‘ کے لقب سے مشہور ہوئے دعویٰ کیا کہ وہ موعودِ کل ادیان ہیں انہوں نے یہ بھی بشارت دی کہ میرے بعد ایک دوسرے مظہر الٰہی کا ظہور ہونے والا ہے جس کی آمد کی خبر تمام مذاہب کی مقدس کتابوں میں دی گئی ہے۔ ١٨ مقتدر علما نے آپ کے دعوے کو تسلیم کیا جن کو ’’حروفِ حی‘‘ کا لقب دیا گیا۔ پھر جو لوگ ’’باب‘‘ پر ایمان لائے وہ بابی کہلائے اس دعوے پر ان کے جاں نثار پیروکاروں کو شدید مصائب کا سامنا کرنا پڑا اور بیس ہزار سے زائد نفوس بھیڑ بکریوں کی طرح ذبح کئے گئے۔ آپ کے بعد دوسرا ظہور بہا اللہ جو ’’نورِ خدا‘‘ ’’جمالِ الٰہی‘‘ ’’مظہر مقدس‘‘ جیسے القابات سے پکارے گئے۔ آپ ١٨١٧ کو تہران میں پیدا ہوئے اپ وزیرِ ایران مرزا عباس نوری کے فرزند تھے۔ نام مرزا حسین علی تھا۔ "بہا اللہ" آپ کا آسمانی لقب تھا۔ آپ نے بھی کسی مدرسے میں تعلیم نہیں پائی تھی۔ بچپن ہی سے آپ علم و دانش کی باتیں کیا کرتے تھے۔ ١٨٦٣ میں آپ نے اپنے ظہور کا دعوی فرمایا۔ آپ نے کہا کہ میں وہی ہوں جو موعودِ کل ادیان ہوں جس کی بشارت کتب مقدسہ اور حضرت باب نے دی تھی۔ حضرت بہا اللہ کاانتقال ١٨٩٢ ء میں ہوا آپ کے فر زندان ارجمند حضرت عبدالبہا آپ کے جانشین ہوئے۔ عبدالبہا نے ٢٩ سال بہائی مذہب کی خدمت کی اور آپ کی زندگی میں ہی بہائی مذہب مشرقی اور مغربی ممالک میں پھیل چکا تھا۔ عبدالبہا اعلٰی اخلاق و صفات کے مالک تھے۔ ٢٨ نومبر ١٩٢١ فلسطین میں آپ نے انتقال فرمایا۔ عبدالبہا کے بعد آپ کے نواسے شوقی آفندی جو آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ تھے آپ کے جانشین ہوئے۔ شوقی ربانی نے ٣٦ سال بہائیوں کی قیادت فرمائی۔ آپ کے دور میں بہائی مذہب ٢٥٤ ممالک میں پھیل چکا تھا۔ بہا کی مذہب کا بڑا مقصد یہ ہے کہ وہ دنیا کے تمام لوگوں کی ایک حقیقی برادری بنادے تاکہ سب صلح و امن کی زندگی بسر کریں اور سب اپنے آپ کو ایک ہی نسل اور ایک ہی ماں باپ کی اولاد تصور کریں۔ حضرت بہا اللہ کا کلام نہایت وسیع اور جامع ہے، انسانی زندگی کے ہر پہلو پر اس میں ہدایات موجود ہیں۔ تمام مادی و روحاجی امور پر تفصیل کے ساتھ تعلیمات موجود ہیں۔ قدیم و جدید کتب اللہ کی تفاسیر و معانی بھی بتائے گئے ہیں۔ بہائی مذہب کے جو اصول حضرت بہا اللہ نے دئیے وہ یہ ہیں۔ ١۔ توحید باری تعالیٰ ٢۔ وحدت عالم انسانی ٣۔ آزادی ضمیر کے ساتھ حقیقت کی تلاش ٤۔ وحدت کل ادیان ٥۔ محبت و اتحاد کا درس ٦۔ مذہب علم و عقل و سائنس کے مطابق ٧۔ مساوات مرد و زن ٨۔ ترکِ تعصبات ٩۔ عالمگیر امن ١٠۔ اقتصادی مشکلات کا روحانی حل ١١۔ عالمگیر زبان صرف ایک۔ اس وقت دنیا میں بہائیوں کی تنظیم موحود ہے اور ان کا لٹریچر تقریبا ہر زبان میں ترجمہ ہوچکا ہے ان کی عبادت گاہ کا نام ’’مشرق الاذکار‘‘ ہے۔ بہائیوں کے نزدیک جنگ ظہور (بہا اللہ) پر ایمان لانے سے حاصل ہوتی ہے اور دوخ ظہور پر ایمان نہ لانا ہے۔ زندگی میں کئے ہوئے اعمال کے مطابق ہی جنت و دوزخ ملتی ہے۔ موت ایک نئی پیدائش ہے۔ بہا اللہ کا دیدار ہی خدا کی دیدار ہے۔ اس مذہب میں ایک ماہ کے روزے اور تین وقت کی نماز پڑھی جاتی ہے۔ ٦ ملین بہائی اس وقت دنیا میں ٢٣٥ ممالک میں موجود ہیں۔

Poetry

Pinterest Share