Shair

شعر

کب تلک یہ دل صد پارہ نظر میں رکھیے
اس پر آنکھیں ہی سیے رہتے ہیں دلبر کتنے

(میر)

آنکھیں بچھائیں ماں نے جو تم گھٹینوں چلے
تلووں سے اس نے دیدہ حق میں سدا ملے

(انیس)

جب تلک آنکھیں کھلی ہیں دکھ پہ دکھ دیکھے گایار
مند گئیں جب انکھڑیاں تب سوز سب آنند ہیں

(سوز)

غیر سے آنکھیں لڑانا اس کا بے حکمت نہیں
اس کے تئیں خر جان کر دیتا ہے وہ جل چشم سے

(حاتم)

دیور ابھی ادھر پھرے اور میں جی میں کھو گئی
لیٹ کے آنکھیں موندلیں جس میں وہ سمجھیں سوگئی

(شوق قدوائی)

نہیں کھلتیں آنکھیں تمہارے ٹک کہ مآل پر بھی نظر کرو
یہ جو وہم کی سی نمود ہے اسے خوب دیکھو تو خواب ہے

(میر)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 61

Poetry

Pinterest Share