• ایک کیا آنکھیں ہیں مری بھی اُدھر
    تجھ سے راجی بے بصر اہل نظر
    میر تقی میر
  • فوجوں پہ قہر دھائے گی چتون دلیر کی
    بھاکو کہ آنکھیں خون میں ڈوبی ہیں سیر کی
    شمیم
  • آنکھیں لڑا لڑا کر کب تک لگا رکھیں گے
    اس پردے ہی میں خوباں ہم کو سلا رکھیں گے
    میر تقی میر
  • آنکھیں اس واسطے خالق نے عنابت کی ہیں
    آدمی دیکھے کہ انسان کی حقیقت کیا ہے
    امان علی
  • یہاں بھی مستعد آنکھیں ہیں اپنی رونے پر
    برس پڑے تو میں دیکھوں ترا سحاب گھمنڈ
    وحید الہ آبادی
  • جب میں دیکھوں ہوں آنکھ بھرکے تمھیں
    بدل آنکھیں مجھے دھراتے ہو
    اظفری
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 61

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter