• آنکھیں کس پرہیز سے کرتی ہیں دید
    جب تلک باہم چھپا ہوتا ہے عشق
    انتخاب رام پور
  • خزاں کا روپ بھی دلکش ہے آنکھیں ہوں تو کھل جائے
    تم ایسوں سے ابھی اے نوجاونو کم نہیں ہیں ہم
    شاد
  • آنکھیں دوڑیں خلق جا اودھر گری
    آُٹھ گیا پردہ کہاں اودھم ہوا
    میر تقی میر
  • آنکھیں پھوٹیں جو کچھ بھی دیکھا ہو
    ابھی آتا ہوں دشت ایمن سے
    داغ
  • میری اس کی جو لڑ گئیں آنکھیں
    ہوگئے آنکھوں ہی میں دو دو بچن
    درد
  • جب ہم نشیں نے اس کی باتیں سنائیاں ہیں
    بے اختیار اس دم آنکھیں بھرآئیاں ہیں
    جسونت سنگھ
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 61

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter