• نہیں کھلتیں آنکھیں تمہارے ٹک کہ مآل پر بھی نظر کرو
    یہ جو وہم کی سی نمود ہے اسے خوب دیکھو تو خواب ہے
    میر
  • اس کے عارض سے ہوا تھا جو دوچار آئنے میں
    رہتا ہے آنکھیں لگائے ہوئے یار آئنے میں
    رشک
  • نہ اونچی ہونگی آنکھیں شرم و خفت سے کہیں اپنی
    یہ گردن بار الفت سے جھکی ہے ان کے احساں پر
    واجد علی شاہ
  • بنائی زاہد خر کی شباہت دست صانع نے
    لیا منہ خرس سے اور دام کی( کیں) خنزیر کی آنکھیں
    قائم
  • آنکھیں کیوں چُرا ئیے ابرِ بہار سے
    افسوس جوشِ دیدہ پرتم نہیں رہا
    الماسِ درخشاں
  • کِھلے ہیں ایسے ہری شاخ پر رُتوں کے گلاب
    سجی ہوں چہرے پہ جیسے لہو سے تر آنکھیں
    جاوید ‌احساس
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 61

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter