• شکست دل نے رلوایا یہاں تک
    کہ آنکھیں روتے روتے ٹوٹ آئیں
    محشر
  • اشارت سے چہک جانے میں تئیں کرتی کمی ہرگز
    غضب کرتیں اگر رکھتیں زبان بول چال آنکھیں
    مرزا علی
  • چمن کی بزم میں جاتی ہے اب جدھر آنکھیں
    اسی کے حسن کو لاتی ہیں ڈھنڈھ کر آنکھیں
    شمیم
  • کب تلک یہ دل صد پارہ نظر میں رکھیے
    اس پر آنکھیں ہی سیے رہتے ہیں دلبر کتنے
    میر
  • تھی خطا ان کی مگر جب آگئے وہ سامنے
    جھک گئیں میری ہی آنکھیں رسم الفت دیکھیے
    روح ادب
  • اے مصحفی جس روز وہ بت سیر کو آیا
    کھل جائیںگی بت خانے میں اصنام کی آنکھیں
    مصحفی
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 61

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter