• نشاں یہ کیسے ہیں شانوں پہ جبکہ یہ پوچھا
    زمیں سے لگ گئیں آنکھیں زباں سے کچھ نہ کہا
    شمیم
  • آنکھوں سے آنکھیں ناصح ہرگز بندھی نہ چھوٹیں
    زنجیر کی کڑی پر جیسے کڑی لگائی
    سودا
  • اس قدر پھیلا دہن تیر اکہ گھونگھا بن گیا
    اس قدر سمٹیں تری آنکھیں کہ ٹیاں ہوگئیں
    ظریف لکھنوی
  • آنکھیں دوڑیں خلق جا اودھر گری
    آُٹھ گیا پردہ کہاں اودھم ہوا
    میر تقی میر
  • بَس گئیں یُوں مری آنکھوں میں کسی کی آنکھیں
    ڈھونڈتا پھرتا ہوں ہر جھیل میں اپنی آنکھیں
    رُوحی ‌کنجاہی
  • مشکیزہ لیے پانی جو بھرنے کو تھے آئے
    دریا کے حبابوں سے رہے آنکھیں لگائے
    شمیم
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 61

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter