• آنکھیں تلووں سے لگاتا ہوں تو وہ از رہ ناز
    سرہٹاتا ہے پرے مار کے ٹھوکر میرا
    جرأت
  • زلف کالی ہے ذقن دُرگا کُند
    رخ جو سورج ہے تو ہندو آنکھیں
    الماسِ درخشاں
  • ظرفِ دل دیکھا تو آنکھیں کرب سے پتھرا گئیں
    خون رونے کی تمنا کا یہ خمیازہ نہ تھا
    احمد ‌فراز
  • آگے جو بڑھا آنکھوں سے آنکھیں وہ ملاکے
    تیر نگہ غیظ گڑا سینے میں جاکے
    شمیم
  • شرم سے وہ شرمگیں آنکھیں جھکی جاتی نہیں
    رات بھاری ہوگئی ہے مردم بیمار پر
    آتش
  • ہوا کا لمس ہے پاؤں میں بیڑیوں کی طرح
    شفق کی آنچ سے آنکھیں پگھل نہ جائیں کہیں!
    امجد اسلام امجد
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 61

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter