• آنکھیں پتھرا گئیں جوں سنگ سلیمانی آہ
    نکلے آنسو تو یہ الفت نے نچوڑے پتھر
    جرأت
  • روتے روتے مری آنکھیں ہوئیں ساون بھادوں اب خدا کے لیے مجکو نہ ستائے بادل
    نواب
  • شہرہ دیکھا تو کھل گئیں آنکھیں
    ماہرویوں پہ ڈھل گئیں آنکھیں
    داغ
  • نہیں کھلتیں آنکھیں تمہاری ٹک کہ مال پر بھی نظر کرو
    یہ جو وہم کی سی نمود ہے اسے خوب دیکھو تو خواب ہے
    میر
  • کھول دے آنکھیں دم ذبیح دم ذبح نہ دیکھوں گا تجھے
    پر چھری اپنی تو گردن پہ میں دیکھوں چلتی
    ذوق
  • جھپکی ہیں آنکھیں اور جھکی آتی ہیں بہت
    نزدیک شاہد آیا ہے ہنگام خواب اب
    میر
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 61

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter