Urdu Inc. is an online dictionary which provides you the meanings of all English and Urdu words, along with the translation of Urdu into English and English into Urdu. This website has over 250,000 registered words which you can make use of. It is more of an online Urdu lughat (Dictionary) and thesaurus as it not only provides words, but synonyms, antonyms, encyclopedia and sentence examples. It contains some of the most beautiful poetry ever written by Urdu poets for your reference needs. The search bar and links on the letters provide you an excellent way to find the word you need. The search bar also provides Urdu and English words based on your search type. Good luck in finding your word!

ڈاکٹر شائستہ اکرام اللہ

 

آج 22 جولائی معروف ادیبہ، تحریک پاکستان کی ممتاز قائد اور ایشیا کی پہلی پی ایچ ڈی خاتون ڈاکٹر شائستہ اکرام اللہ کا یوم پیدائش ہے۔

اُردو میں مختصر افسانہ نگاری کی بانی ،سیاست داں خاتون،مراکش میں پاکستان کی سفیر محترمہ شائستہ اکرام اللہ 22 جولائی 1915ء کو کلکتہ میں پیدا ہوئیں۔  بیگم شائستہ اکرام اللہ نے 1945ءمیںمسلم لیگ کی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لینا شروع کیا اور آل انڈیا مسلم لیگ گرلز سٹوڈنٹس فیڈریشن کی ناظم مقرر ہوئیں۔ آپ ایک مدبر سیاست داں ہونے کے ساتھ ساتھ ماہر ادیبہ بھی تھیں۔’’کوششِ ناتمام‘‘ آپ کی مختصر کہانیوں کا مجموعہ ہے۔ بیگم شائستہ اکرام اللہ کی آپ بیتی ’’پردے سے پارلیمنٹ تک ‘‘ 1943ء میں شایع ہوئی۔ بیگم شائستہ اکرام اللہ نے اُردو کے پہلے ناول’’ مرأۃ العروس‘‘ کا انگریزی زبان میں ترجمہ بھی کیا تھا۔آپ اُردو کے ساتھ ساتھ انگریزی و دیگر زبانوں میں بھی لکھتی رہیں۔

بیگم شائستہ اکرام اللہ شادی سے پہلے ہی شائستہ اختر سہروردی کے نام سے افسانہ لکھا کرتی تھیں اور ان کے افسانے اس زمانے کے اہم ادبی جرائد ہمایوں، ادبی دنیا، تہذیب نسواں اور عالمگیر وغیرہ میں شائع ہوتے تھے۔ 1940ء میں انہوں نے لندن یونیورسٹی سے ناول نگاری کے موضوع پر پی ایچ ڈی کی، وہ اس یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کرنے والی پہلی ہندوستانی خاتون تھیں۔ تحریک پاکستان کے دنوں میں انہوں نے جدوجہد آزادی میں بھی فعال حصہ لیا اور بنگال لیجسلیٹو اسمبلی کی رکن رہیں۔ قیام پاکستان کے بعد وہ پاکستان کی پہلی دستور اسمبلی کی رکن بھی رہیں۔ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی کی اور مراکش میں سفارتی خدمات انجام دیں۔ ان کی تصانیف میں افسانوں کا مجموعہ ’’کوشش ناتمام‘‘، ’’دلی کی خواتین کی کہاوتیں اور محاورے‘‘، ’’فرام پردہ ٹو پارلیمنٹ‘‘، ’’لیٹرز ٹو نینا‘‘، ’’بیہائینڈ دی ویل‘‘ اور ’’اے کریٹیکل سروے آف دی ڈیولپمنٹ آف دی اردو ناول اینڈ شارٹ اسٹوری‘‘ شامل ہیں۔

حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر نشان امتیاز کا اعزاز عطا کیا

10 دسمبر 2000ء کو بیگم شائستہ اکرام اللہ متحدہ عرب امارات میں وفات پاگئیں۔وہ کراچی میں حضرت عبداللہ شاہ غازی کے مزار کے احاطے میں آسودۂ خاک ہیں۔

googleplus  twitter