Urdu Inc. is an online dictionary which provides you the meanings of all English and Urdu words, along with the translation of Urdu into English and English into Urdu. This website has over 250,000 registered words which you can make use of. It is more of an online Urdu lughat (Dictionary) and thesaurus as it not only provides words, but synonyms, antonyms, encyclopedia and sentence examples. It contains some of the most beautiful poetry ever written by Urdu poets for your reference needs. The search bar and links on the letters provide you an excellent way to find the word you need. The search bar also provides Urdu and English words based on your search type. Good luck in finding your word!

فہمیدہ ریاض

 

آج 28 جولائی نامور اردو شاعرہ، ادیبہ فہمیدہ ریاض کا یوم پیدائش ہے۔ فہمیدہ ریاض 28 جولائی 1946 کو میرٹھ (یوپی انڈیا) کے علمی و ادبی گھرانے میں پیدا ہوئیں۔  ان کے والد ریاض الدین احمد ماہر تعلیم تھے۔ تقسیم کے بعد ان کا خاندان حیدر آباد سندھ میں قیام پذیر ہوا۔ فہمیدہ نے بچپن میں سندھی زبان سیکھی اور سندھی ادب کا مطالعہ بھی کیا۔ فہمیدہ زمانہ طالب علمی سے طلبہ کی سیاسی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی رہیں۔ شادی کے بعد وہ انگلستان چلی گئیں جہاں بی بی سی اردو سروس سے وابستہ رہیں۔ پاکستان واپسی پر انہوں نے ایک پبلشنگ ہاؤس کھولا اور ایک رسالہ ’’آواز‘‘ کے نام سے جاری کیا۔ حکومتی پالیسیوں پر تنقید کے جرم میں ان کو جلاوطن ہونا پڑا۔

فہمیدہ ریاض کی پہلی نظم پندرہ سال کی عمر میں شائع ہوئی۔ بائیس سال کی عمر میں ان کا پہلا شعری مجموعہ منظر عام پر آیا۔ انہوں نے جنس، تخلیق اور دیگر کو اپنا موضوع بنایا۔  فہمیدہ ریاض اردو شاعری کے سکہ بند اسلوب اور روایتی مضامین سے باغی شاعرہ ہے۔ اس کی شاعری میں نسوانیت بولتی ہے۔ مرد اور عورت کے باہمی تعلق کی تہ میں موجود جذباتی رو اور عورت کا استحصال اس کی نظموں کے پسندیدہ موضوع ہیں۔ وہ کہیں کہیں مزاحمتی اور باغی بھی ہوجاتی ہے۔  فہمیدہ ریاض جس قرب اور کرب سے گزرتی ہے اسے من و عن لفظوں میں ڈھالنے کا ہنر جانتی ہے اور اپنے لفظوں میں پوری کیفیت کو انڈیل دیتی ہے۔

فہمیدہ کی شاعری میں مشرقی عورت کی مجبوریاں بھی نظر آتی ہیں اور بیسویں صدی کی عورت کی روایات سے آزاد اور خودمختار ہونے کی خواہش بھی۔ ان کا خواب ایک ایسا معاشرہ ہے جہاں عورت اور مرد کو برابری مل سکے۔

انہوں نے سندھی شاعر شیخ ایاز کے کلام کو اردو ترجمہ کیا ہے اس کے علاوہ مثنوی مولانا روم کا بھی ترجمہ کیا ہے۔ یہ پروگریسو رائٹرز ویمن کی بانی اور ’’المانتی‘‘ ایوارڈ حاصل کرنے والی پہلی پاکستانی شاعرہ ہیں اس کے علاوہ انہوں نے ستارۂ امتیاز اور صدارتی تمغہ حسن کارکردگی برائے ادب بھی حاصل کئے۔

ان کی تصانیف میں ’’بدن دریدہ‘‘، ’’قافلے پرندوں کے‘‘، ’’یہ خانۂ آب و گل‘‘ وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ مشہور نظمیں ’’پتھر کی زبان‘‘، پچھتاوا‘‘، ’’ایک رات کی کہانی‘‘، ’’یہ زرد موسم کے خشک پتے‘‘ ہیں۔

 

googleplus  twitter