Urdu Inc. is an online dictionary which provides you the meanings of all English and Urdu words, along with the translation of Urdu into English and English into Urdu. This website has over 250,000 registered words which you can make use of. It is more of an online Urdu lughat (Dictionary) and thesaurus as it not only provides words, but synonyms, antonyms, encyclopedia and sentence examples. It contains some of the most beautiful poetry ever written by Urdu poets for your reference needs. The search bar and links on the letters provide you an excellent way to find the word you need. The search bar also provides Urdu and English words based on your search type. Good luck in finding your word!

مسئلہ بچوں کے ناموں کا

 

نومولود بچوں کے ناموں کا مسئلہ خاصا پریشان کن ہے۔ اتنے نئے نام کوئی کہاں سے لائے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ریڈیو پاکستان، زاہدان ریڈیو اور ریڈیو سیلون کے فرمائشی پروگراموں سے خاصی مدد ملتی ہے لیکن وہ چند سو ناموں تک محدود ہے۔ پرانے زمانے میں یہ مسئلہ پیش نہ آتا تھا۔ کیونکہ لوگوں کے نام عبدالغنی، عبدالغفور، سراج الدین، فاطمہ بیگم، سکینہ خاتون اور رحمت بی بی وغیرہ ہوتے تھے۔ ان کا لامتناہی ذخیرہ اب بھی موجود ہے۔ قلت صرف نئے ناموں کی ہے۔ ہر کوئی اپنے بیٹے کا نام صریرخامہ اور بیٹی کا نام نوائے سروش رکھنا چاہتا ہے۔ اساتذہ کے دیوان بھی آخر کہاں تک ساتھ دے سکتے ہیں۔ فیملی پلاننگ پر جو ہمارے ملک میں اتنا زور دیا جارہا ہے، اس میں صرف یہی ایک حکمت نہیں کہ خوراک کا توڑا نہ ہوجائے، ناموں کے توڑے کا بھی مسئلہ ملحوظ ہے، نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔

بہت دن ہوئے ایک صاحب ہمارے پاس بھاگے بھاگے تشریف لائے کہ کوئی نام سبکتگین اور الپتگین کے قافیے کا بتاؤ۔ ہم نے کہا خیریت؟ بولے میں نے اپنے تاریخی ذوق کی بنا پر اپنے دو صاحبزادوں کے یہ نام رکھے تھے۔ بس غلطی کرگیا۔ یہ نہ سوچا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت بے پایاں ہے۔ ورنہ خاندان سبکتگین کی بجائے خاندان مغلیہ کا انتخاب کرتا، جس میں بابر اور ہمایوں سے لے کر رفیع الدولہ اور رفیع الدرجات تک کی گنجائش ہے۔ ہم نے پوچھا رنگ کیسا ہے صاحبزادے کا؟ معلوم ہوا باپ کی طرح کا ہے۔ ہم نے سرمگین کا لفظ تجویز کیا۔ وہ انہیں پسند نہ آیا۔ غمگین، اندوہگین پر ان کو یہ اعتراض تھا کہ فال بد ہے۔ حالانکہ انہیں میں سے کوئی بڑا ہوکر نالائق نکل جائے یعنی شاعر بن جائے اور اپنے لئے رنجور، الم، افسوس، حسرت وغیرہ تخلص اختیار کرلے تو کوئی نہیں روکتا۔ رنگین، تماشبین، دوربین، خوردبین وغیرہ بھی ہمارے ذہن میں آئے۔ لیکن ہمارے دوست کا اطمینان نہ ہوا۔ اگلے روز ان کے دفتر جانے کا اتفاق ہوا تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک طرف میز پر عربی، فارسی اور ترکی لغت رکھے ہیں، دوسری طرف فیملی پلاننگ کے لٹریچر کا ڈھیر ہے۔ کبھی اسے دیکھتے ہیں کبھی اس پر نظر کرتے ہیں۔ چراکارے کند عاقل کہ باز آید پشیمانی۔

ہمارے ہاں ناموں کا ایک انداز یہ ہے کہ انگریزی کا قاعدہ سامنے رکھا اور اس کے حروف تہجی میں سے ایک دو کو چمٹی سے اٹھا کر اس کے بعد خان، احمد یا دین وغیرہ لگالیا۔ اے حمید، بی احمد، زیڈ خان وغیرہ۔ حتیٰ کہ شہروں اور عہدوں کے ناموں کا مسئلہ بھی اسی طرح حل کیا گیا ہے۔ ابھی کل ہم نے پڑھا کہ ڈی آئی خان میں مسٹر این ایم احمد نے پی ڈبلیو ڈی کے ایس ڈی او کا عہدہ سنبھالا۔ جن بچوں کا نام والدین نے پرانی وضع کے رکھے ہیں وہ بھی احتجاجاً گاتے پھرتے ہیں کہ ’’نام ہمارا ہوتا ڈبلیو ڈبلیو خان اور کھانے کو ملتے لڈو۔ ہیپی برتھ ڈے ٹو یو۔‘‘ ہمارے ادب میں ل احمد اور ن م راشد پہلے ادیب تھے جنہوں نے اردو کے قاعدے کی سرپرستی کی۔ ہمارے بزرگ اور مہربان اے ڈی اظہر صاحب اب اس عمر میں آکر مسلمان ہوئے ہیں یعنی خود کو الف دال اظہر لکھنے لگے ہیں۔ بہرصورت یہ بھی ان کی اردو دوستی پر دال ہے۔ اردو حروف تہجی میں ایک قباحت البتہ ضرور ہے۔ آپ احمد دین کو الف دین تو لکھ سکتے ہیں۔ بدر دین کو ب دین نہیں لکھ سکتے، پڑھنے میں ازالہ حیثیت عرفی کا اندیشہ ہے۔

ڈبلیو خاں وغیرہ ناموں پر کئی بار ہمیں دھوکا ہوا شاید لوگ مسیحی ہیں اور کسی میونسپلٹی کے محکمہ صفائی میں نوکر ہیں۔ ہمیں اپنے مسیحی بھائیوں کی صلح کل روش پسند ہے کہ نہ مشرق کو ناراض کرتے ہیں اور نہ مغرب کو۔ سموئیل گنڈا سنگھ، جوزف خیر دین اور رابرٹ نتھے خاں قسم کے نام ان کے ہاں عام ہیں۔ ہماری گلی میں جو صاحب جھاڑو دیتے ہیں، ان کا نام ہے جارج گھسیٹے خان، اور اندرون خانہ صفائی کا چارج مس الزبتھ بدھورام کے پاس ہے۔ ان کے نام سن کر سلطنت انگلشیہ مرحوم کی عظمت و سطوت یاد آتی ہے جس میں یہ لوگ بھی برابر کے شریک تھے۔ آزادی سے پہلے جب کانگریسیوں نے ’’ملک چھوڑ دو‘‘ کی مہم چلائی اور روزانہ جلسے جلوس کا غوغا ہونے لگا تو ایک روز پنجاب کے کسی شہر میں دو بزرگ اس قوم کے، ایک کا نام پیٹر دوسرے کا نام پال، بڑے انہماک سے کوڑے کی ڈھیریوں کو جھاڑو سے سڑک پر پھیلارہے تھے کیونکہ پورے رقبے پر کوڑے کو یکساں تقسیم کرنے سے سڑک نسبتاً صاف معلوم ہونے لگتی ہے۔ اتنے میں ایک طرف سے نعروں کی آواز آئی۔ ایک نے ان میں سے ٹھٹک کر پوچھا۔ ’’اوے پیٹر ایہہ کی ہورہیا اے۔‘‘ یعنی یہ کیا ہورہا ہے۔ دوسرے نے جھاڑو سے ٹیک لگا کر غور سے سنا اور کہا۔ ’’اوے پال! ہونا کی اے۔ ایہہ لوگ اجادی منگدے پئے نے، تے اسیں دیندے نئیں۔‘‘ یعنی اے برادر ہونا کیا ہے۔ یہ لوگ آزادی مانگ رہے ہیں اور ہم دے نہیں رہے۔

ناموں کی قلت کی ایک وجہ یہ ہوئی کہ جو نام انسانوں کے ہونے چاہئیں وہ محکمہ ریلوے نے اپنے اسٹیشنوں کے رکھ لئے ہیں۔ رحیم یار خاں، راجہ رام، ہیرا سنگھ وغیرہ۔ سندھ میں ایک اسٹیشن کا نام تو مع القاب کے ہے، نواب ولی محمد خاں۔ ہمارے ایک دوست بیان کرتے ہیں کہ مجھے ایک روز وہاں جانا تھا، ٹکٹ بابو سے کہا کہ مجھے نواب ولی محمد خاں کا ٹکٹ دو۔ اس نے کہا آپ کون ہوتے ہیں۔ کیا نواب صاحب کے اردلی ہیں؟ ہمارے ایک آدمی کو ان کے ہاں نوکر رکھوادیجئے گا۔ میں نے کہا یہ کسی آدمی کا نہیں، اسٹیشن کا نام ہے۔ بولے اچھا؟ معاف فرمائیے گا۔ نتیجہ اس حیص بیص کا یہ نکلا کہ گاڑی نے سیٹی دی اور ہمارے دوست کے دیکھتے دیکھتے چھوٹ گئی۔

سوچا جائے تو راہ مضمون تازی ایسی بھی بند نہیں۔ نقش فریادی کسی ایسے بچے کا نام ہوسکتا ہے جو روتا بہت ہو اور لمبی ناک والی بچی کو مرقع چغتائی کا نام دے سکتے ہیں۔ زیادہ لمبے بالوں والی صاحبزادی کو بال جبریل کہنے میں ہرج نہیں اور اگر کسی لڑکے کا نام ضرب کلیم رکھا جائے تو بڑا ہوکر حساب میں یقیناً ہوشیار نکلے گا۔ ہمارے دوست انتظار حسین کی شادی بعد بے شمار انتظار کے سالِ گزشتہ عالیہ بیگم سے ہوئی ہے۔ ان کو تو نہیں، ان کے دوستوں کو فکر ہے کہ اس جوڑے کے بچوں کے نام کلاسیکی قسم کے ہونے چاہئیں۔ ہم نے بچے کے لئے فسانہ آزاد اور بچی کے لئے طلسم ہوش ربا تجویز کیا تھا۔ لیکن لوگ مطمین نہ ہوئے۔ آخر اتفاق اس پر ہوا کہ لڑکا ہو تو ادب عالیہ کہلائے اور بچی ہو تو شب انتظار۔

(ابن انشا کی کتاب ’’خمار گندم‘‘ سے)

googleplus  twitter