Urdu Inc. is an online dictionary which provides you the meanings of all English and Urdu words, along with the translation of Urdu into English and English into Urdu. This website has over 250,000 registered words which you can make use of. It is more of an online Urdu lughat (Dictionary) and thesaurus as it not only provides words, but synonyms, antonyms, encyclopedia and sentence examples. It contains some of the most beautiful poetry ever written by Urdu poets for your reference needs. The search bar and links on the letters provide you an excellent way to find the word you need. The search bar also provides Urdu and English words based on your search type. Good luck in finding your word!

آج مورخہ 25 اکتوبر ترقی پسند تحریک سے تعلق رکھنے والے مشہور شاعر ساحر لدھیانوی اور اردو کے نامور مزاح نگار ضیا الحق قاسمی کا یوم وفات ہے۔ ذیل میں ہم ان دونوں شخصیات کا مختصر تعارف پیش کرتے ہیں

 

ساحر لدھیانوی

 

ترقی پسند تحریک سے تعلق رکھنے والے مشہور شاعر ساحر لدھیانوی کا اصل نام عبدالحئی تھا۔ وہ 8 مارچ 1921 کو لدھیانہ کے ایک جاگیردار خاندان میں پیدا ہوئے۔ خالصہ اسکول سے ابتدائی تعلیم حاسل کی۔ گورنمنٹ کالج لدھیانہ میں داخلہ لیا۔ طالب علمی کے زمانے میں ہی ان کا شعری مجموعہ ’’تلخیاں‘‘ شائع ہوچکا تھا۔ 1949 میں وہ لاہور سے ممبئی چلے گئے اور اسی سال ان کی پہلی فلم ’’آزادی کی راہ‘‘ ریلیز ہوئی۔ لیکن اصل شہرت موسیقار ایس ڈی برمن کے ساتھ 1950 میں فلم ’’نوجوان‘‘ میں ان کے لکھے ہوئے نغموں کو نصیب ہوئی۔ ایس ڈی برمن اور ساحر کی جوڑی نے یکے بعد دیگرے کئی فلموں میں کام کیا۔ ساحر کی دوسری سب سے بڑی تخلیقی شراکت روشن کے ساتھ تھی۔ خصوصاً فلم ’’برسات کی رات‘‘ کے گانوں نے بھی بہت مقبولیت حاصل کی تھی۔ اس فلم کا گانا ’’زندگی بھر نہیں بھولے گی وہ برسات کی رات‘‘ سال کا مقبول ترین نغمہ قرار پایا۔ ساحر نے دوسرے موسیقاروں کے ساتھ بھی کام کیا۔ ’’ملتی ہے زندگی میں محبت کبھی کبھی ، نیلے گگن کے تلے، چھولینے دو نازک ہونٹوں کو، میں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھی، میں جب بھی اکیلی ہوتی ہوں، دامن میں داغ لگا بیٹھے، ابھی نہ جاؤ چھوڑ کر کہ دل ابھی بھرا نہیں، میں زندگی کا ساتھ نبھاتا چلا گیا اور رات بھی ہے کچھ بھیگی بھیگی‘‘ جیسے مقبول گیت شامل ہیں۔

گرودت کی ’’پیاسا‘‘ اور یش راج کی ’’کبھی کبھی‘‘ کی کہانی ساحر کی اپنی زندگی سے ماخوذ تھی۔ ’’کبھی کبھی‘‘ کے گیت کون بھول سکتا ہے، جیسے ’’کبھی کبھی میرے دل میں یہ خیال آتا ہے‘‘ یا ’’میں پل دو پل کا شاعر ہوں۔‘‘ انہوں نے اپنی فنی زندگی میں دوبار فلم فیئر ایوارڈ جیتے جس میں پہلا 1964 میں فلم ’’تاج محل‘‘ کے گیت ’’جو وعدہ کیا وہ نبھانا پڑے گا‘‘ اور دوسرا ’’کبھی کبھی‘‘ کی شاعری پر 1977 میں اپنے نام کیا۔ لیکن وقت نے ثابت کیا کہ ساحر پل دو پل کے شاعر نہیں تھے اور انہوں نے جو کچھ کہا وہ کارِ زیاں نہیں تھا۔ اس لئے اتنا عرصہ گزر جانے کے باجود ان کے نغمے آج بھی عوام کے درمیان مقبول ہیں۔

25 اکتوبر 1980 کو اس البیلے شاعر کا ممبئی میں انتقال ہوگیا۔

 

ضیا الحق قاسمی

 

اردو کے نامور مزاح نگار، مشہور مزاح نگار اور عطا الحق قاسمی کے بھائی ضیا الحق قاسمی بھارت کے شہر امرتسر میں 5 مئی 1935 کو پیدا ہوئے۔ پاکستان بننے کے بعد ان کا خاندان حیدر آباد آکر آباد ہوا۔ بعد میں وہ کراچی منتقل ہوگئے جہاں سے انہوں نے ماہنامہ ’’ظرافت‘‘ جاری کیا۔

انہوں نے اردو ادب میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔ مزاحیہ شاعری کے ساتھ انہوں نے سنجیدہ شاعری اور نثر میں بھی طبع آزمائی کی۔ ان کی مشہور مجموعوں میں ’’ہرے بھرے زخم، رگ ظرافت، ضیا پاشیاں اور چھیڑ خانیاں‘‘ قابل ذکر ہیں۔ قاسمی کی اصل وجہ شہرت مزاحیہ شاعری ہی رہی اور انہیں اس سلسلے میں بھرپور پذیرائی ملی۔ اردو مزاحیہ شاعری ضیا الحق قاسمی کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔ تلخ سے تلخ خیال کو جب ضیا الحق قاسمی نے شعر میں ڈھالا تو سننے والا مسکرائے بغیر نہ رہ پایا۔ مزاحیہ شاعر کی شہرت پانے والے ضیا الحق قاسمی نے سنجیدہ شعر بھی کہے۔ وہ مشاعرے سجانے میں بھی کمال رکھتے تھے۔ ان کی نظامت مشاعروں اور ادبی پروگراموں میں نئی جان ڈال دیتی تھی۔

ضیا الحق قاسمی ایک عرصے سے عارضہ قلب سے دوچار تھے۔ وہ جراحت قلب کے عمل سے بھی گزرے۔ آخری دن بھرپور زندگی گزاری اور بدھ 25 اکتوبر 2006 کی شب 71 سال کی عمر میں اس جہان فانی سے رخصت ہوگئے۔

نمونہ کلام:

خود خدا نے مجھے بھیجا ہے حکومت کے لئے

میں سمجھتا ہوں کہ زمانے کی ضرورت کیا ہے؟

مشورہ کوئی نہیں آپ سے مانگا میں نے

آپ کو ٹانگ اڑانے کی ضرورت کیا ہے؟

۔۔۔۔۔۔

میں شکار ہوں کسی اور کا مجھے مارتا کوئی اور ہے

مجھے جس نے بکری بنادیا وہ بھیڑیا کوئی اور ہے

کئی سردیاں بھی گزر گئیں میں تو اس کے کام نہ آسکا

میں لحاف ہوں کسی اور کا مجھے اوڑھتا کوئی اور ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔

کروں گا کیا جو محبت میں ہوگیا ناکام

مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا

googleplus  twitter