Urdu Inc. is an online dictionary which provides you the meanings of all English and Urdu words, along with the translation of Urdu into English and English into Urdu. This website has over 250,000 registered words which you can make use of. It is more of an online Urdu lughat (Dictionary) and thesaurus as it not only provides words, but synonyms, antonyms, encyclopedia and sentence examples. It contains some of the most beautiful poetry ever written by Urdu poets for your reference needs. The search bar and links on the letters provide you an excellent way to find the word you need. The search bar also provides Urdu and English words based on your search type. Good luck in finding your word!

ہم مہمان خصوصی بنے

(ابن انشا کی کتاب ’’خمار گندم‘‘ سے)

 

آج کل کراچی کے کالجوں اور اسکولوں میں مباحثوں اور یوموں کا موسم ہے۔ سکہ بند مہمان خصوصی کو دن میں دو دو درس گاہیں بھگتانی پڑرہی ہیں۔ صبح کہیں ہے شام کہیں۔ ہمارے ایک بزرگ تو مدرسہ رشیدیہ حنفیہ میں ایلورا اور اجنتا کی تصویروں پر اظہار خیال کر آئے کیونکہ اپنے ساتھ غلطی سے شام والی تقریر لے گئے تھے۔ اس کی تلافی کے لئے اس شام انہیں ماڈرن آرٹ کالج میں حضرت ابوہریرہ کی زندگی اور حدیثوں میں اسمائے رجال کی اہمیت پر بولنا پڑا۔ اس شہر میں چالیس پچاس کالج ہوں گے اور سیکنڈری اسکول بھی بہت ہیں۔ لیکن سب ہمارے دیکھتے دیکھتے لوگوں میں تقسیم ہوگئے۔ ہم بالکل ہی مایوس ہوگئے تھے کہ ایک اسکول والوں کا فون آیا کہ کل ہمارے ہاں جلسہ ہے، مہمان خصوصی آپ ہوں گے۔

’’کس قسم کا اسکول ہے آپ کا؟‘‘ ہم نے پوچھا۔

جواب ملا کہ پرائمری اسکول ہے۔

ہم نے کہا۔ ’’جب اس شہر میں اتنے سارے پرائمری پاس مہمانانِ خصوصی موجود ہیں تو ہمارا صدارت کرنا کچھ عجیب سا معلوم ہوگا۔ ہم یوں بھی درویش گوشہ نشین آدمی ہیں، انکساری ہماری طبیعت میں داخل ہے۔ کسی اور کو۔۔۔۔۔‘‘

لیکن ہمارا یہ عذر مسموع نہ ہوا۔

ہم نے بھی اس سے زیادہ عذر اور انکار مناسب نہ جانا جتنا کہ کسی مہمان خصوصی پر اخلاقاً واجب ہے تاکہ کسی اور کو نہ بلالیں۔ لہٰذا ہتھیار ڈال کر کہا۔ اچھا صاحب! آپ لوگ مجبور کرتے ہیں تو حاضر ہوجائیں گے کیونکہ قومی خدمت اور تعلیم کے فروغ کا معاملہ ہے ورنہ من آنم کہ من دانم۔

ہم کوئی عادی قسم کے مہمان خصوصی نہیں ہیں۔ ہر کوئی ممتاز حسن ہو بھی نہیں سکتا کہ بحر معنی کا شناور ہو، جدھر چاہے بے تکلف تیرتا نکل جائے۔ ممتاز صاحب میں مروت اس قدر ہے کہ کسی سے انکار نہیں کرتے۔ ان کا سیکریٹری اپنی ڈائری میں نوٹ کرتا جاتا ہے کہ کس روز کس وقت جلسہ ہے اور وقت کے وقت یاد دلاتا ہے۔ بعض اوقات تو یہ بات بھی نوٹ ہونے سے رہ جاتی ہے کہ جلسہ کس کی طرف سے ہے اور کس تقریب میں ہے۔ ممتاز حسن صاحب جب موقع پر پہنچتے ہیں تب پتہ چلتا ہے کہ انہیں فارابی کے فلسفے کے بارے میں بولنا ہے یا چیمبر آف کامرس کے ممبروں سے مشرق وسطیٰ کو کھالوں کی برآمد کے امکانات پر گفتگو کرنی ہے۔ خیام سوسائٹی کی سالگرہ کے سالانہ جلسے کی انہیں پیشگی اطلاع نہ تھی۔ انہیں جلسہ گاہ میں پہنچ کر معلوم ہوا۔ تاہم وہ تین گھنٹے تک اس موضوع پر بولتے رہے کہ خیام کے جو ترجمے جاپانی اور آرمینی زبانوں میں ہوئے ہیں، ان میں کیا کیا لغزشیں ہوئیں اسی سلسلے میں انہوں نے نظام الملک طوسی، بائرن، کالیداس اور بلھے شاہ کے ہم معنی اشعار بھی سنائے۔ شام کو انہیں ریڈیو پر فن پہلوانی کی تاریخ اور رموز کے موضوع پر لیکچر دینا پڑا اور اسی رات کو ٹی وی پر راگ جے جے ونتی کا موازنہ ہیتھودن کی چودھویں سمغنی اور پنجابی کے مقبول گیت ’موڑیں بابا ڈانگ والیا‘ سے کیا۔ اگلے روز ہومیو پیتھوں کے سالانہ جلسے کا افتتاح بھی انہوں نے کیا اور صدارتی خطبہ ارشاد فرمایا۔ بعد میں ہومیوپیتھی کالج کے پرنسپل نے ہمیں بتایا کہ ممتاز صاحب نے آرنیکا اور فارمیکا کے جو خواص بتائے ہیں اور ان دواؤں کا رشتہ جوارش جالینوس اور سدھ مکر دھوج سے ثابت کیا ہے وہ ہمارے لئے بالکل نئی معلومات ہیں۔ یہی رائے ہم نے ڈائریکٹر محکمہ زراعت سے سنی جنہیں ممتاز صاحب نے اپنے تجربات کی روشنی میں بتایا کہ شکرقندی کی فصل کے لئے کون سی کھاد زیادہ مفید رہتی ہے اور قدیم بابل میں کیکسی پاک گندم کی کاشت کس طرح کی جاتی تھی۔

ہاں ہم ایسوں کو کچھ نہ کچھ پیشگی تیاری کی ضرورت پڑتی ہے۔ لہٰذا جہاں ہم نے قمیص کو کلف لگوایا، جوتا پالش کیا، سوٹ استری کرایا وہیں ایک تقریر بھی سوچ لی کہ تعلیمی کاموں کے لئے ہم گلے گلے حاضر ہیں اور پرائمری تعلیم سے ہمیں پرانی دلچسپی بلکہ ایک زمانے میں تو پرائمری کلاسوں کے طالب علم بھی رہ چکے ہیں۔ اور یہ کہ آج کل کے بچوں کو ہماری تقلید کرنی چاہئے۔ یعنی خدمت قوم کا جذبہ اپنے میں پیدا کرنا چاہئے اور ایثار سیکھنا چاہئے اور اچھی اچھی باتیں کرنی چاہئیں اور بری بری باتیں چھوڑ دینی چاہئیں تاکہ ہمارا پیارا پاکستان ترقی کرے وغیرہ۔ اتفاق سے ہمیں اپنی اس تقریر کا مسودہ مل گیا جو ہم نے پارسال ہاکرز کنونشن میں کی تھی اور ذرا سی ترمیم کرکے لائبریری ایسوی ایشن کے جلسے میں بھی استعمال کرچکے تھے۔ یہ اس موقع کے لئے بھی برمحل نظر آئی کیونکہ قوومی خدمت اور تہذیب اخلاق وغیرہ کوئی ہاکروں اور لائبریرین حضرات کا اجارہ تھوڑا ہی ہیں۔ یہ بات طالب علموں میں بھی پیدا ہوجائے تو ہرج کی بات نہیں۔

مطالعے کی وسعت اور علم کی گہرائی بڑی اچھی چیزیں ہیں لیکن ایک قباحت کا پہلو بھی ان میں ہے۔ ہماری ہی مثال لیجئے۔ اتنے بہت سارے خیالات اور نکات ایک ساتھ ہمارے ذہن میں ہجوم کر آتے ہیں کہ ان کے گچھے سے بن جاتے ہیں اور حلق میں اٹک جاتے ہیں۔ ادب، فلسفہ، طب، تاریخ، جغرافیہ، کسی کو نظر انداز کرنے کو جہ نہیں چاہتا اور پھر وہ تمام اشعار بھی موقع بہ موقع استعمال کرنے ہوتے ہیں جو ایک سلپ پر لکھے ہماری جیب میں رہتے ہیں۔ ہمارے پاس فالتو وقت ہو تو ان کو چھانٹ کر قرینے سے ترتیب بھی دیں۔ لیکن جلسے کرنے والوں کو عموماً جلدی ہوتی ہے۔ دریوں اور تمبوؤں والے تیار کھڑے رہتے ہیں کہ کب جلسہ ختم ہو، کب سامان ریڑھے پر لادیں۔ ادھر چائے ٹھنڈی ہورہی ہوتی ہے اور بعض لوگ جن کو اپنے اعصاب پر قابو نہیں ہوتا، اپنی جماہیوں کو بھی مزید نہیں روک پاتے۔ سو اس آپا دھاپی کے عالم میں ہم باتیں تو ساری کہہ گزرتے ہیں اور شعر بھی قریب قریب سارے استعمال کرلیتے ہیں لیکن اتنی مین میکھ ممکن نہیں ہوتی کہ مختلف مسائل کا آپس میں جوڑ ملائیں یا اشعار اور موضوع کا ربط دیکھیں۔ سامعین میں سے سمجھنے والے خود ہی اندازہ کرلیتے ہیں کہ کون سا شعر دراصل کون سے مضمون سے متعلق سمجھنا چاہئے اور جو مسائل بیان کئے گئے ہیں ان کی اصل ترتیب کیا ہے۔ لیکن سبھی لوگ تو ایسے نکتہ شناس نہیں ہوتے۔ سطحی مذاق کے سامعین اگر ہماری تقریر کو بے ربط اور الجھی ہوئی خیال کریں تو ہمارے نزدیک قابل معافی ہیں۔ فکر ہر کس بقدر ہمت اوست۔

اگر معاملہ کالج یا یونیورسٹی کا ہوتا تو ہم بہت سے مباحث چھوڑ جاتے۔ یہ فرض کرلیتے کہ ان عزیز طالب علموں کو یہ باتیں پہلے سے معلوم ہیں۔ لیکن پرائمری کے بچوں کو ہر چیز قدرے تفصیل سے سمجھانی چاہئے اور یہی ہم نے کیا۔ کون نہیں جانتا کہ آج کل ہمارا سب سے بڑا مسئلہ افراط زر ہے اور زرمبادلہ کی کمی ہے۔ ہمیں اپنی برآمدی تجارت کو بڑھانا چاہئے۔ قدرتاً سب سے پہلے ہم نے موزوں الفاظ میں اس مسئلے کا ذکر کیا اور کسی شاعر کے اس شعر پر بات ختم کی۔

اقبال تیرے عشق نے سب بل دیئے نکال

مدت سے آرزو تھی کہ سیدھا کرے کوئی

امابعد جنوبی افریقہ کی سیاست اور قبرص کے قضیے اور موسیقی کے باب میں حضرت امیر خسرو کی خدمات اور ابن رشد کے فلسفے اور سیم تھور کی طرف توجہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اسی میں ہمارے سفر یورپ کے کچھ تاثرات بھی آگئے۔ اور خلفائے راشدہ کے عہد کی تعریف بھی۔ ایسی تقریریں بالعموم خشک ہوتی ہیں لہٰذا ہم سات ساتھ پانی بھی پیتے گئے اور یہ شعر پڑھ کر جو اس وقت یاد نہیں کس کا ہے ان مسائل کو بھی سمیٹا۔

میر ان نیم باز آنکھوں میں

ساری مستی شراب کی سی تھی

یہاں سے گریز کرکے ہم ان مسائل ضروری کی طرف آئے جن کا ذکر اوپر کیا ہے۔ خدمت خلق، راست بازی، ایثار کی ضرورت وغیرہ۔ ہم اور بھی بولتے اگر سیکریٹری صاحب چٹ نہ بھیج دیتے کہ آج کی حد تک یہی کافی ہے۔ اب آپ تھک گئے ہوں گے۔ آخر ہم خدائے سخن، لسان العصر، فردوسی اسلام، استاد ذوق رحمتہ اللہ علیہ کے اس مصرع پر بات ختم کرکے بیٹھ گئے۔

جو ہو ذوق یقیں پیدا

تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں

اس تقریر پر بہت جگہ تالیاں پٹیں۔ اکثر تو ہمیں بے موقع بھی معلوم ہوئیں۔ کچھ طالب علموں نے منہ میں انگلیاں دے کر سیٹیاں بجائیں جیسی سنیماؤں میں معیاری اور سنجیدہ فلموں پر اظہار پسندیدگی کے لئے بجائی جاتی ہیں۔ بعضوں نے بنچ بجائے اور فرش پر پاؤں سے مسلسل تھاپ دی۔ لیکن ہمارے نزدیک اس میں ہماری کچھ خوبی نہیں۔ کسی نے سچ کہا ہے کہ قبول سخن خداداد چیز ہے۔

ہم نے اپنی تقریر میں جو زور راست بازی کی خوبیوں پر دیا تھا، اس کا اثر تو فوراً ظاہر ہوا۔ سیکریٹری صاحب نے آخر میں شکریے کی تقریر کی تو اس میں حاضرین کو بتایا کہ اصل میں صدارت کے لئے ہم نے ڈپٹی کمشنر صاحب کو بلایا تھا چنانچہ اعلان اور دعوت ناموں میں انہی کا نام ہے۔ لیکن ایک دن پہلے انہوں نے انکار کردیا۔ ہم نے کچھ اور لوگوں سے رجوع کیا۔ ہر ایک نے کچھ نہ کچھ عذر کیا۔ آخر انشا اللہ خاں انشا صاحب مل گئے۔ ان کی ذات محتاج تعارف نہیں۔ ان کی غزلیں اسکولوں کے نصابوں میں داخل ہیں۔ کمر باندھے ہوئے چلنے کو یاں سب یار بیٹھے ہیں وغیرہ۔

اس موقع پر ایک صاحب لپک کر آئے اور ان کے کان میں سرگوشی کی کہ ارے انشا اللہ خاں انشا کو مرے تو بہت دن ہوئے۔ یہ آج کل کے ادیب ہیں۔ ابھی زندہ ہیں۔ سیکریٹری صاحب سے غلطی تو ہوگئی تھی لیکن انہوں نے کھنکار کر صورت حال کو بڑی خوبصورتی سے سنبھال لیا۔ فرمایا۔ ’’ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ ہمارے مہمان گرامی کی ذات ستودہ صفات کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ یہ آج کل کے ادیب ہیں اور ابھی زندہ ہیں۔ انہوں نے بہت سے ناول لکھے ہیں۔ ڈرامے لکھے ہیں جو گھر گھر میں پڑھے جاتے ہیں۔ بہرحال ڈپٹی کمشنر صاحب کے نہ آنے کا ہمیں افسوس ہے۔ اور آپ کا (یہاں رک کر انہوں نے ایک صاحب سے ہمارا صحیح نام پوچھا) یعنی ابن انشا صاحب کا ہم شکریہ ادا کرتے ہیں کہ باوجود اپنی مصروفیات کے یہاں تشریف لائے۔ حاضرین سے ہم معذرت خواہ ہیں کہ صدارتی تقریر کی وجہ سے جلسہ ذرا طویل ہوگیا اور انہیں سواری حاصل کرنے میں ذرا دقت ہوگی۔ بہرحال اب جلسہ ختم ہے۔ شکریہ۔ خدا حافظ۔‘‘

ایک زمانہ تھا کہ معاشرے میں شاعر ادیب کی کچھ حیثیت نہ تھی۔ پھرتے تھے میر خوار کوئی پوچھتا نہ تھا۔ غالب جیسے بھی ڈپٹی کمشنروں کی شان میں قصیدے لکھتے اور ان کے دربار میں کرسی پانے پر فخر کرتے مرگئے۔ بارے اب ان کے بھاگ کھلے اور یہ ڈپٹی کمشنروں کے نعم البدل قرار پائے۔ پرانا زمانہ ہوتا تو ڈپٹی کمشنر کے انکار کرنے پر تحصیلدار صاحب کو تکلیف دی جاتی۔ وہ نہ ملتے تو تھانیدار صاحب مل جاتے اور بی ڈی کے چئیرمین تو کہیں گئے نہیں۔ ان سب کو نظر انداز کرکے کسی خالی خولی ادیب کو بلانا اور کرسی صدارت پر بٹھانا ایک بڑی بات ہے۔ اب بھی کوئی کہتا پھرے کہ ہمارے ہاں علم یا اہل علم کی قدر نہیں تو حیف ہے۔ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ جب ڈپٹی کمشنر کی جگہ شاعر ادیب استعمال ہوسکتا ہے تو اس بات کی راہ بھی کھل گئی ہے کہ ہم کسی مشاعرے میں نہ جاسکیں تو جلسے والے کسی ڈپٹی کمشنر سے غزل پڑھوالیں۔ ہمارے لئے تو غزل وزل کہنا مشکل بھی ہے۔ ان لوگوں کے لئے مشکل بھی نہیں۔ اے پی اے یا کسی ماتحت افسر سے کہہ دیا کہ ڈرافٹ پیش کرو اور ہمارا تخلص ڈال دینا، ہم دستخط کردیں گے اور ہاں الفاظ مشکل نہ ہوں اور ذرا خوشخط لکھی ہوئی ہو۔‘‘

googleplus  twitter