حلال وحرام کا امتیاز بڑی اچھی بات ہے لیکن اب یہ ہمیں تک رہ گیا ہے۔ لندن میں ہمارے ہوٹل میں ایک صاحب ایک اسلامی ملک کے تھے، دوتین روز کو آتے تھے۔ انگریزی نہ جانتے تھے لہذا ہمیں ترجمانی کرنی پڑتی تھی۔ مسنرواٹسن نے پوچھا کہ ان کو انڈا اوربیکن دوں؟ ہم نے کہا ’’اے حرافہ! خبردار جیسا ناشتہ ہمیں دیتی ہو اسے بھی دو، مسلمان بھائی ہے۔‘‘ اس نے خالی انڈے توس لادیئے۔ ان صاحب نے ایک روز توکھالئے۔ دوسرے روز ہم سے کہنے لگے۔ ’’بڑی بی سے کہو ہمیں خالی انڈوں پر نہ ٹرخائے۔ان کے ساتھ بیکن بھی دیاکر۔‘‘ جب ہم نے دبے لفظوں میں کچھ کہا تو بحثنے لگے کہ مسلمان کا ایمان تودل میں ہوتا ہے معدے میں تھوڑا ہی ہوتا ہے اورشروع میں سور اس لئے حرام قرار پایا تھا کہ گندہ ہوتا ہے اور گندگی کھاتا ہے۔اب تودیکھو کس طرح خاص طورپر خوراک کیلئے پالا جاتا ہے۔ ہم نے کہا بابا تو جوجی چاہئے کھا، ہمیں مت قائل کرنے کی کوشش کر،آئندہ ہم تیری ترجمانی کریں تو سوّر کھائیں۔

 

(’’آوارہ گرد کی ڈائری‘‘ از ابن انشا سے اقتباس)