Name In EnglishBuddhism

آج سے تقریبا ڈھائی ہزار سال پہلے بدھ مذہب کی بنیاد جنوب مشرقی ایشیا میں شمالی بہار اور سرحدِ نیپال کی ایک ریاست ’’کپل وستو‘‘ کے شہزادے ’’ساکھیا منی‘‘ نے رکھی جنہوں نے تخت و تاج کو ٹھکراتے ہوئے انسانی مصائب اور ان کو حل کرنے کی کوشش کی۔ اس مذہب کی بنیاد ’’حصولِ نروان‘‘ ہے جسے سکون و طمانیت کا درجہ دیا جاسکتا ہے۔ بدھ مت کے بائی مہاتما بدھ کا اصل نام ’’سدھارتا ۔۔۔۔۔ اور ’’گوتم‘‘ ان کا لقب ہے اور ’’مہاتما‘‘ تعظیماً کہا جاتا ہے۔ یہ چوتھی صدی قبل مسیح میں شمالی ہندوستان کے ایک زمیندار کے گھر پیدا ہوئے ٢٩ سال کی عمر میں گھر بار چھوڑ کر سنیاسی ہوگئے اور ٨٠ سال کی عمر میں بمقام پھپر ۔۔ (ضلع گورکھپور یوپی) میں وفات پائی۔ آپ پچاس (٥٠) سال بدھ مذہب کو پھیلاتے رہے۔ ہندُستان‘ لنکا‘ برما‘ ہند چینی‘ چین‘ جاپان‘ تبت اور بنگلہ دیش ملکوں میں بدھ مذہب کے پیروکار موجود ہیں۔ گوم بدھ خود ایک ہندو گھرانے کے تربیت یافتہ تھے۔ سب سے پہلے مصلح دین کے طور پر ابھرے اور پھر ایک عظیم مصلح دین بن گئے گوتم بدھ نے خود کو کبھی پرستش کے لئے پیش نہیں کیا مگر مرنے کے بعد وہ خود ایک مقدس معبود کی شکل اختیار کرگئے۔ بلکہ بدھ عبادت و پرستش کا جزولاینفک بن گئے۔ بدھ مذہب کی مذہبی کتاب ’’تری پٹیکا‘‘ کہلاتی ہیں جن کے جاپانی‘ چینی‘ انگریزی و دیگر زبانوں میں بھی تراجم موجود ہیں جبکہ اس کی اصل زبان پالی کے بھی متعدد نسخے دنیا میں پائے جاتے ہیں۔ بدھ مذہب اپنی تعلیمات کے اعتبار سے ایک ضابطہ اخلاق کہا جاسکتا ہے۔ اس مذہب کی تعلیمات انتہائی سادہ تھیں۔ یہ اخلاقی تعلیمات پر مبنی ایک ایسا نظام حیات ہے جس کا مقصد انسان کو ہندو مذہب کے ’’نظریہ تناسخ‘‘ سے نجات دلاتا تھا۔ ایک ‘‘بدھا‘‘ کی وفات کے بعد اس میں کافی تبدیلی کردی گئی۔ مہاراج اشوکا نے اس مذہب کی تبلیغ و اشاعت میں زیادہ حصہ لیا اور اسے بین الاقوامی سطح پر بھی متعارف کروایا۔ آج اس کے پیروکار بیرونِ ملک بھی زیادہ ہیں۔ اس مذہب کی تعلیمات ایک انگریز مصنف ہالراکڈ نے اپنی تصنیف (Indian Customs) میں یوں بین کی ہیں ’’ اس مذہب میں ذات کو کوئی دخل نہیں ہے ہر ایک آدمی کا درجہ اس کے عمل پر ہے۔ مردوں‘ عورتوں‘ جوان اور بچے سب کو رحم دلی اختیار کرنے اور تکلیفیں سہنے کی عادت ڈالنی چاہئے۔ اس سے فائدہ حاصل ہوتا ہے ’’ساکیہ منی‘‘ (گوتم بدھ) کے نزدیک نجات ایک خاص حالت کو کہتے ہیں جس میں انسان کو خوشی و رنج‘ دوستی و دشمنی بلکہ تمام مصائب اور خواہشوں سے چھوٹ مل جاتی ہے‘‘۔ ان میں سے ایک فرقہ کا قول ہے کہ خدا کچھ چیز نہیں سب سے بڑا ’’بدھ‘‘ ہوتا ہے اب تک کئی بدھ ہوچکے ہیں گوتم بدھ پچیسواں بدھ ہے۔ اس مذہب کے بعض لوگوں کی رائے ہے کہ خدا موجود ہے لیکن اس نے دنیا کو پیدا نہیں کیا اور نہ ہی اس کو دنیا کے کاموں اور انسانوں کے نیک و بد سے کوئی واسطہ ہے اور بعض کہتے ہیں کہ پھر بھی تمام چیزیں خدا کی مرضی سے ہی پیدا ہوتی ہیں۔ یہاں بدھ مت کے اکثر پیروکار ہندوؤں کے دیوتاؤں کو بھی مانتے ہیں لیکن ان کا درجہ بدھ سے کم مانتے ہیں بدھ مت کے تصور معبود پر ہندو مذہب کی چھاپ پائی جاتی ہے۔ اس مذہب میں خواہشات کو سب مصیبتوں کی جڑ گردانا گیا ہے۔ خواہشات پر قابو پانے کے لئے آٹھ اصول بیان کئے ہیں۔ ١۔ صحیح علم و عقیدہ ٢۔ صحیح ارادہ ٣۔ صحیح کلام ٤۔ صحیح عمل۔ ٥۔ صحیح سلوک ٦۔ صحیح کوشش ٧۔ صحیح یادداشت ٨۔ صحیح غور و فکر ہیں۔

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter