Shair

شعر

برسوں کے بعد دیکھا اِک شخص دِلُربا سا
اب ذہن میں نہیں ہے پر نام تھا بھلا سا

(احمد فراز)

خلقت کے آوازے بھی تھے بند اس کے دروازے بھی تھے
پھر بھی اس کوچے سے گزرے‘ پھر بھی اس کا نام لیا ہے

(احمد فراز)

غمِ دنیا بھی غمِ یار میں شامل کرلو
نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں

(احمد فراز)

اپنی آشفتہ مزاجی پہ ہنسی آتی ہے
دشمنی سنگ سے اور کانچ کا پیکر رکھنا

(احمد فراز)

اور ہوں گے کہ جو آئینہ صفت جیتے ہیں
میں تو مرجاؤں اگر کوئی مقابل نہ رہے

(احمد فراز)

تیری نظروں میں مرے درد کی قیمت کیا تھی
مرے دامن نے تو آنسو کو گہر جانا تھا

(احمد فراز)

First Previous
1 2 3
Next Last
Page 1 of 3

Poetry

Pinterest Share