• خوشبو اسی دہن کی بہ از عود و مشک ہے
    سو کھے ہیں تیرے ہونٹ لہو میرا خشک ہے
    آرزو لکھنوی
  • سیل کی رہگزر ہوئے، ہونٹ نہ پھر بھی تر ہوئے
    کیسی عجیب پیاس تھی، کیسے عجب سحاب تھے!
    امجد اسلام امجد
  • دہن کو دیکھ ترے ہونٹ چاٹتے رہ گئے
    پھرا نہ قند سے منہ چاشنی چشیدوں کا
    انتخاب
  • درد کی رہگزار میں، چلتے تو کس خمار میں
    چشم کہ بے نگاہ تھی، ہونٹ کہ بے خطاب تھے
    امجد اسلام امجد
  • دانتوں کے تلے ہونٹ نہ غصے میں دباؤ
    ہو خونِ مسیحا تو نہ بہرے کی کنی سے
    الماس درخشاں
  • وہ عجیب پھول سے لفظ تھے، ترے ہونٹ جن سے مہک اٹھے
    مرے دشتِ خواب میں دور تک، کوئی باغ جیے لگا گئے
    امجد اسلام امجد
First Previous
1 2 3 4 5 6
Next Last
Page 1 of 6

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter