Shair

شعر

خوشبو اسی دہن کی بہ از عود و مشک ہے
سو کھے ہیں تیرے ہونٹ لہو میرا خشک ہے

(آرزو لکھنوی)

برہاڈسن کے درد تھیں بیا کل پڑے نت زرد ہو
بے کس ہونٹ جابیل تے جیوں پات پیلا جھڑپڑے

(شاہی)

دانتوں کے تلے ہونٹ نہ غصے میں دباؤ
ہو خونِ مسیحا تو نہ بہرے کی کنی سے

(الماس درخشاں)

سبب بھوکہہ کے اس میں ماریں گے دانت
جبھی گرپڑی ہونٹ اور جیبہ آنت

(رمضان)

مرے دل کو رکھتا ہے شادماں، مرے ہونٹ رکھتا ہے گل فشاں
وہی ایک لفظ جو آپ نے مرے کان میں ہے کہا ہوا

(امجد اسلام امجد)

پان سے ہونٹ بھی خوں ریز کئے بیٹھے ہیں
آج تو مجھ پہ چھری تیز کئے بیٹھے ہیں

(واسوخت بحر)

First Previous
1 2 3 4 5 6
Next Last
Page 1 of 6

Poetry

Pinterest Share