• دانتوں کے تلے ہونٹ نہ غصے میں دباؤ
    ہو خونِ مسیحا تو نہ بہرے کی کنی سے
    الماس درخشاں
  • دپٹہ سہاوے جیو سہماے
    ہونٹ سلونیں من لبھائے
    نو سرہار
  • پان سے ہونٹ بھی خوں ریز کئے بیٹھے ہیں
    آج تو مجھ پہ چھری تیز کئے بیٹھے ہیں
    واسوخت بحر
  • دو کالے ہونٹ ، جام سمجھ کر چڑھا گئے
    وہ آب جس سے میں نے وضو تک کیا نہ تھا
    بشیر بدر
  • کس کے آنسو چھپے ہیں پھولوں میں
    چومتا ہوں تو ہونٹ جلتے ہیں
    بشیر بدر
  • برہاڈسن کے درد تھیں بیا کل پڑے نت زرد ہو
    بے کس ہونٹ جابیل تے جیوں پات پیلا جھڑپڑے
    شاہی
First Previous
1 2 3 4 5 6
Next Last
Page 1 of 6

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter