Shair

شعر

سیل کی رہگزر ہوئے، ہونٹ نہ پھر بھی تر ہوئے
کیسی عجیب پیاس تھی، کیسے عجب سحاب تھے!

(امجد اسلام امجد)

پھوٹیں گے اب نہ ہونٹ کی ڈالی پہ کیا گلاب!
آئے گی اب نہ لوٹ کے آنکھوں میں کیا، وہ نیند!

(امجداسلام امجد)

پُھوٹیں گے اَب نہ ہونٹ کی ڈالی پہ کیا گلاب!
آئے گی اب نہ لَوٹ کے آنکھوں میں کیا‘ وہ نیند!

(امجد اسلام امجد)

سبب بھوکہہ کے اس میں ماریں گے دانت
جبھی گرپڑی ہونٹ اور جیبہ آنت

(رمضان)

ہم نے ساقی کے کہیں ہونٹ جو ٹک چوس لیے
کوش ہو سب اہل خرابات کے پا بوس کیسے

(انشا)

برہا ڈسن کے درد تھیں بیاکل پڑے نت زرد ہو
بے کس ہونٹ جا بیل تے جیوں پات بپیلا جھڑ پڑے

(شاہی)

First Previous
1 2 3 4 5 6
Next Last
Page 1 of 6

Poetry

Pinterest Share