• وفا دامن کش پیرایہ ہستی ہے اے غالب
    کہ پھر نزہت گہ غربت سے تاحد وطن لائی
    غالب
  • ظالم ہو میری جان پہ ناآشنا نہ ہو
    بے رحمی اتنی عیب نہیں بے وفا نہ ہو
    میر تقی میر
  • آیا ہی تھا ابھی میرے لب پر وفا کا نام
    کچھ دوستوں نے ہاتھ میں پتھر اٹھالئے
    ناصر کاظمی
  • وفا کے باب میں لفظوں کے سلسلے تھے بہت
    کہیں کسی کو مری جاں، مکر ہی جانا تھا
    امجد اسلام امجد
  • ولی اس بے وفا کے قول پر کیا اعتبار آوے
    کہ ظالم ہے دو رنگی ہے ستمگر ہے شرابی ہے
    ولی
  • کوئی بتلائے یہ تکمیلِ وفا ہے کہ نہیں
    اشک بن کر کسی مژگاں پہ نمایاں ہونا
    عبید ‌اللہ ‌علیم
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 43

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter