• ہم اپنے وعدے کے دن بھر چلے اب اے ظالم
    تو گو وفا کرے وعدےکو اپنے یا نہ کرے
    قائم
  • پتلیاں میری پھری یکھ کے بولے دم نزع
    بے وفا آنکھ یو ہیں پھیر لیا کرتے ہیں
    جلال
  • مجبوری و دعوایِ گرفتاری الفت
    دستِ تہہِ سنگ آمدہ پیمانِ وفا ہے
    غالب
  • زندگی پاتے ہی اعزاز وفا کو دیکھا
    آنکھ کھلتے ہی خدائی میں خدا کو دیکھا
    مضطر خیر آبادی
  • چنانچہ ایک دن اوس شوخ بے وفا سے اجی
    جو میں نے پوچھا وفا بھی کسی سے کی ہے کبھی
    الماس درخشاں
  • یہ طرز و ادا ہے تو انسے نہ وفا ہوگی
    خوباں کے خوش آیندہ اسلوب نظر آئے
    میر حسن
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 43

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter