Shair

شعر

آیا ہی تھا ابھی میرے لب پر وفا کا نام
کچھ دوستوں نے ہاتھ میں پتھر اٹھالئے

(ناصر کاظمی)

بہت دھندلے سہی شیشے سرِ بزمِ وفا امجد
مگر اک بار وہ گم گشتہ چہرے، دیکھ تو آئیں

(امجد اسلام امجد)

صد کارواں وفا ہے کوئی پوچھتا نہیں
گویا متاعِ دل کے خریدار مرگئے

(میر تقی میر)

بخت واڑوں نے دکھایا یہ زمانہ الٹا
جس سے کرتا ہوں وفا میں وہ جفا کرتا ہے

(سحر(نواب علی خاں))

جل بجھی شمع تو پروانے وفا بھول گئے
کون آتا ہے کسی سوختہ سامان کے پاس

(نامعلوم)

ہے دل میں اعل ہبل‘ لب پہ ہللویا ہے
کہاں صدیق وفا پیشہ و حمیم احم

(منحمنا)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 43

Poetry

Pinterest Share