Shair

شعر

کچھ تو مجبوریاں بھی ہوتی ہیں
یوں کوئی بے وفا نہیں ہوتا

(بشیر ‌بدر)

جاں یاز سرفروش بہادر وفا شعار
ایک ایک رونق چمنستان روزگار

(انیس)

پوچھیں ہیں وجہ گریۂ خونیں جو مجھ سے لوگ
کیا دیکھتے نہیں ہیں سب اس بے وفا کا رنگ

(میر)

ہم نے تحریر وفا پڑھ کے سنائی ان کو
کہ ذا خط جو خفی تھا تو وہ خود پڑھ نہ سکے

(شبلی)

کچھ تو تھے دوست بھی وفا دشمن
کچھ مری آنکھ میں حیا بھی تھی

(امجد اسلام امجد)

وفا دشمن نہ ہو اے آشنارو
وفا پر ہے مدار آشنائی

(ولی)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 43

Poetry

Pinterest Share