Shair

شعر

اس کی نہ پوچھو دوری میں اُن نے پرسش حال ہماری نہ کی
ہم کو دیکھو مارے گئے ہیں آکر پاس وفا سے ہم

(میر تقی میر)

آگے بھی تیرے عشق سے کھینچے تھے درد و رنج
لیکن کسو کے پاس متاع وفا نہ تھی

(میر تقی میر)

وعدہ آنے کا وفا کیجیے یہ کیا انداز ہے
تم نے کیوں سونپی ہے میرے گھر کی دربانی مجھے

(غالب)

لیلٰی کا نام زندہ ہے اب تک جہان میں
تم بھی نباہ دو کسی اہل وفا کےساتھ

(انور دہلوی)

ظلم و ستم سے جور و جفا سے کیا کیا عاشق مارے گئے
شہرِ حسن کے لوگوں میں کرتا نہیں کوئی وفا کی طرف

(میر)

سوائے دردِ محّبت، بجُز غبار سَفر
کوئی رفیق نہ پایا وفا کے رستے میں

(امجد اسلام امجد)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 43

Poetry

Pinterest Share