• او راتاں کو کیوں ٹالتا ہووے گا
    زمین پر او کیوں نیند بھر سووے گا
    رضوان شاہ و روح افزا
  • نہ تھی نیند شہ رات کو دھاک تے
    چھٹی آج اس بھشٹ ناپاک تے
    قطب مشتری
  • شبوں کو نیند آتی ہی نہیں ہے
    طبیعت چین پاتی ہی نہیں ہے
    ابنِ انشا
  • نشے میں نیند کے، تارے بھی، اک دوجے پر گرتے ہیں
    تھکن رستوں کی کہتی ہے چلو اب اپنے گھر جائیں
    امجد اسلام امجد
  • مژگاں کے خار چبھتے ہیں آنکھوں میں رات دن
    کیا دخل ہجر یار میں آنے تو پائے نیند
    حبیب
  • سننے والوں کو جو نیند آے تو قصہ ہو تمام
    دہر اک بیچ سے چھوٹا ہوا افسانہ بنے
    بیخود موہانی
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 16

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter