• یہ کیسی نیند میں ڈوبے ہیں آدمی امجد
    کہ ہار تھک کے گھروں سے قیامتیں بھی گئیں
    امجد اسلام امجد
  • گُھومی ہے رتجگوں کے نگر میں تمام عُمر
    ہر رہگزارِ درد سے ہے آشنا ‘ وہ نیند
    امجد اسلام امجد
  • میری ہی تو آنکھوں میں غضب نیند بھری ہے
    میری ہی جیبیں ہے یہ جو گھٹنے پہ دھری ہے
    مومن
  • چو شمع سوزاں چوذرہ حیراں زمہراں مہ بگشتم آخر
    نہ نیند نینا نہ انگ چینا نہ آپ آویں نہ بھیجیں پتیاں
    امیر خسرو
  • نہ تھی نیند شہ رات کوں دھاک تے
    چُھٹی آج اس بھِشٹ ناپاک تے
    قطب مشتری
  • نہ مج کو بھوک دن نہ نیند راتا
    برہ کے درد سیں سینہ براتا
    افضل جھنجھانوی
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 16

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter