Shair

شعر

اے شاطر زمانہ تصدق ہو پیل چرخ
شطرنج عشق میں ترے گھوڑے کی چال کے

(ذوق)

ترے عشق کی انتہا چاہتا ہوں
مری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں

(عّلامہ ‌اقبال)

خواہش کا نام عشق تھا‘ نمائش کا نام حُسن
اہلِ ہوس نے دونوں کی مٹی خراب کی

(نامعلوم)

تجھ عشق سوں عشاق کا من آگ ہوا
خورشید نمن تمام تن آگ ہوا

(ولی)

فکر مرہم کا مرے واسطے مت کر ناصح
خوب ہوتا نہیں اس عشق کا ناسور کبھو

(یقین)

میں نے جانا تھا صحیفہ عشق کا میرے ہے نام
واہ یہ دیوان بھی نقلِ دفاتر ہوگیا

(سوز)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 163

Poetry

Pinterest Share