Shair

شعر

گلزار تیرے عشق کا کملائے کر ناتیوں کدھیں
انکھیاں تھےاپنے جیوں بدل برسے انجھو کی دھار آج

(غواصی)

اِس شہرِ خرابی میں غمِ عشق کے مارے
زندہ ہیں یہی بات بڑی بات ہے پیارے

(حبیب ‌جالب)

شعلہ عشق کی گرمی نے شب فرقت میں
شمع ساں صبح سے پہلے ہی نبیڑا مجکو

(عیش دہلوی)

ترے مکتبِ عشق کے درس خواں
ہیں پیر و جواں وصی یا نبی

(شاہ کمال)

عشق کے ہاتھ سوں ہوئے دل ریش
جگ میں کیا بادشاہ کیا درویش

(ولی)

رسوئی عشق کی میں جا جیوں گا
برہمن ہوے کر صدقہ لبوں گا

(ولی)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 163

Poetry

Pinterest Share