Shair

شعر

لاٹھی شباں اٹھائے اگر ذیب کے خلاف
ہے ظلم اس کو کہیے جو تہذیب کے خلاف

(اکبر)

پانی بھی بند ظلم جفا کا وفود ہے
آکر مرا گناہ ہے کوئ قصور ہے

(دبیر)

جب ایسا بھائی ظلم کی تیغوں میں آڑ ہو
پھر کس طرح نہ بھائی کی چھاتی پہاڑ ہو

(انیس)

جتنا جی چاہے کریں ظلم و ستم وہ مجھ پر
مجھ میں اب نام کو بھی طاقت فریاد نہیں

(قرار)

ظلم کرکے کیوں کسی کی آہ لو
جاؤ جاؤ اپنے گھر کی راہ لو

(شوق قدوائی)

ظلم و ستم کی ناؤ ڈبونے کے واسطے
قطرہ کو آنکھوں آنکھوں میں طوفاں بنادیا

(ظفر علی خاں)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 16

Poetry

Pinterest Share