Shair

شعر

ظلم کر ظلم اگر لطفِ دریغ آتا ہے
تو تغافل میں کسی رنگ سے معذور نہیں

(غالب)

یہ وہ ہیں ظلم سے جو ہاتھ اٹھا نہیں سکتے
رسول بھی انھیں رستے پہ لا نہیں سکتے

(سجاد رائے پوری)

اس چرخ سیہ رونے اک فتنے کو سنکارا
اس ظلم رسیدہ کو کن سختیوں سے مارا

(میر)

کیا ظلم تھا جو آپ کے اوپر روار ہا
تعریف سے ہے ذکر ہر اک لب پہ آپ کا

(قہر عشق)

کیسے کرسکتی ہے اس ظلم کو تاریخ معاف
میرا گھر لوٹنے والے میرے ہمسائے تھے

(محشر ‌بدایونی)

یزیدیاں کا سو قصہ ظلم کا کوئی نا سکے کہنے
کہ جانن پن تھے شیطان ان کنے تعلیم پایا ہے

(قلی قطب شاہ)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 16

Poetry

Pinterest Share