Shair

شعر

او زہر ڈنک نینو جو پیے گا نین سو دھاک
دیوانہ سیں آگ برہ تھے کباب تھا

(قلی قطب شاہ)

لے نگاہ مہر سے دل مت بچشم قہر دیکھ
گڑ دیئے سے جو مرے تو دے نہ اس کو زہر دیکھ

(ذوق)

ایک بھائی کو ہے فاقہ ایک کرتا زہر مار
اٹھ گئی دنیا کے پردے سے محبت آج کل

(جان صاحب)

گر خط سبز سے اس کے نہ تمہیں تھی کچھ لاگ
پھر بھلا موجی یہ زہر کا کھانا کیا تھا

(میر)

ڈستا رہے گا اب تو یونہی زندگی کا ناگ
ہونا پڑے گا زہر کا خوگر سہیلیو!

(عطیہ ‌بتول ‌بانو)

یاں زہر دے تو زہر لے، شکر میں شکر دیکھ لے
نیکوں کو نیکی کا مزہ موذی کو ٹکر دیکھ لے

(نظیر)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 15

Poetry

Pinterest Share