• کاسہ میں فلک کے رہے اک بُوند نہ زہر اب
    دھر کھینچے اگر تشنہ لب جامِ محبت
    ذوق
  • کس کس سے رہیں دور‘ تو کس قرب کو ڈھونڈیں
    دیتے ہیں محبت میں یہاں زہر بدل کر
    علامہ ‌رشید ‌ترابی
  • تیرا خنجر ہے نہنگ ایسا کہ غرق زہر اب
    تیری شمشیر وہ اژدر ہے کہ ہے آتش دم
    ذوق
  • شربت مرگ آب حسرت شور یختی زہر غم
    تلخ کامی سے مجھے کیا کیا گوارا ہو گیا
    مومن
  • سبزانِ شہر اکثر درپے ہیں آبرو کے
    اب زہر پاس اپنے ہم بھی منگا رکھیں گے
    میر تقی میر
  • عجیب زہر تھا محرومیوں کا حاصل بھی
    بدن پہ چل نہ سکا‘ روح تک اُتر بھی گیا
    جمشید ‌مسرور
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 15

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter