• وہ سب کچھ سنی ان سنی کر گئے
    رہے ہم یہاں زہر اگلتے ہوئے
    ظہیر دہلوی
  • چوٹی تیری سو ناگ ہے ہور زہر اس میں کڑوا
    اوگھر کھیلاں میں دستی توں سا چلی سنپارا
    قلی قطب شاہ
  • اس درجہ تلخ لہجے میں باتیں نہ کیجئے
    لفظوں کا زہر پھیل نہ جائے زبان پر
    باقی صدیقی
  • محتسب وہم ہے تو پہلے پلا دیکھ مجھے
    نہ لنڈھا ی لے مئے ناب ہے زہر آب نہیں
    مومن
  • ہر شخص اپنے وقت کا سقراط ہے یہاں
    پیتا نہیں ہے زہر کا پیالہ مگر کوئی
    مرتضٰی ‌شریف
  • جس کو ڈسا ہے زلف نے وہ تو ہے اور ہی لہر میں
    کالے کا کاٹا ہے غضب زہر چڑھا اور موا
    تراب
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 15

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter