Shair

شعر

آنکھ ہے جام ہلا ہل حب افیوں خال لب
ایک کیفیت ہے قاتل زہر اور تریاک میں

(نواب علی)

اپنے تو لیے زہر کی تاثیر ہے اس میں
گو واسطے عالم کے ہر تویاک محبت

(قائم)

میں ہوں وہ کشتہ کہ بیگانہ ہے سبزہ جس سے
اور اگر ہے تو ہے آغشتہ زہر اب سناں

(ذوق)

جب وہاں چمکے افق میں زہر دامان سحاب
میری جانب سے وطن کو اس طرح کرنا خطاب

(مطلع انوار)

نوروز ہور روزید کے خوشیاں ملے یک چاند میں
مارو رقیباں کے دلاں میں زہر پیکاں عید کا

(قلی قطب شاہ)

زہر قاتل عشق زلف آئینہ رخسار ہے
لاکھ بسوے مار ہی ڈآلیگی حیرانی مجھے

(فیض( شمس الدین))

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 15

Poetry

Pinterest Share