Shair

شعر

سر ھسین سے آواز یہ ہوئی پیدا
میں ہوں علی کا پسر جان فاطمہ زہر

(فیض بھرت پوری)

جب وہاں چمکے افق میں زہر دامان سحاب
میری جانب سے وطن کو اس طرح کرنا خطاب

(مطلع انوار)

میں تو اخلاص کا مینار ہوں‘ سقراط نہیں
کیوں میرے دوست مجھے زہر دیا کرتے ہیں

(نامعلوم)

چھپتی ہے ڈھال کے گھونگھٹ میں نکلتی ہے کبھی
خون پیتی ہے کبھی زہر اگلتی ہے کبھی

(عروج)

نوروز ہور روزید کے خوشیاں ملے یک چاند میں
مارو رقیباں کے دلاں میں زہر پیکاں عید کا

(قلی قطب شاہ)

ڈمرو بجا کے وہ جو اتارے ہیں زہر مار
آپ ہی وہ کھیلتے ہیں ہلا سر زمیں پہ مار

(نظیر)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 15

Poetry

Pinterest Share