Shair

شعر

گرچہ نظر ہے پشت پا پر لیکن قہر قیامت ہے
گڑ جاتی ہے دل میں ہمارے آنکھ اس کی شرمائی ہوئی

(میر تقی میر)

دل ایک پردہ نشیں سے لگا کے کہتے ہیں
الہٰی ملنے کا اس کے کہیں تو داؤ لگے

(جرات)

تفحص فائدہ ناصح تدارک تجھ سے کیا ہوگا
وہی پاوے گا میرا درد، دل جس کا لگا ہوگا

(میر)

کہتے ہو نہ دیں گے ہم‘ دم اگر پڑا پایا
دل کہاں کہ گم کیجیے‘ ہم نے مدعا پایا

(غالب)

جگ میں اے خورشید وہ چرخ زن ہے ذرہ وار
جن نے دل باندھا ہے تیرے حسن عالم گیر سوں

(ولی)

رکھا چھاتی پہ میں پتھر پڑے سینے میں انگارے
تمہیں کو دل مبارک ہو جو ایسی طبع مائل ہے

(حسرت (جعفر علی))

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 740

Poetry

Pinterest Share