• درد سے ہم اک ذرا سی اشک باری کر بڑے
    اس پہ بھی لاکھوں گھڑے پانی کے بادل پر پڑے
    شوق قدوائی
  • واں درد سے تھا وہ دست بردل
    یہاں عشق سے تھی شکست بردل
    ہوس
  • رکھیو غالب مجھے اس تلخ نوائی میں معاف
    آج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے
    غالب
  • حیواں کو بھی دُکھ ہوتا ہے زخموں کے تعب کا
    میں درد رسیدہ ہوں مجھے درد ہے سب کا
    انیس
  • سنتا نہیں ہے درد رعیت کا بادشاہ
    قاضی تو حسن دوست بتاں کو ہے اس سے راہ
    سودا
  • کثرت میں درد و غم کے نہ نکلی کوئی طپش
    کوچہ جگر کے زخم کا شاید کہ تنگ تھا
    میر تقی میر
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 65

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter