Shair

شعر

شباب تک نہیں پہنچا ہے عالم طفلی
ہنوز حسن جوانی یار راہ میں ہے

(آتش)

نہ گئی دل سے مرے حسن پرستی نہ گئی
بجھ گیا خوں مگر روح کی مستی نہ گئی

(اکبر)

چاند سورج لاکھ اپنے حسن کی قلعی کریں
دیکھنے ہیں کب اونھیں آئینہ دار سبزہ رنگ

(ریاض البحر)

تجھے گل سوں کروں نسبت تو تیرے حسن سوں گل کیا
پھروں نس دن پیچھے تیرے یوھنسا ہو تغافل کیا

(قادر)

نج حسن کیرے دور میں رقاص ہوئے کر
کرتا ہے رقص مستی سوں پا کر گگن امس

(قلی قطب شاہ)

حسن خلوت سے نکلتا ہے بر افگندہ نقاب
جب ہوا کی رو میں چھڑ جاتے ہیں فطرت کے رباب

(اسرار)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 81

Poetry

Pinterest Share