• عیب ذاتی کو چھپائے گا نہ حسن عارضی
    زیب بد اندام کو ہو ذوق کیا پوشاک سے
    ذوق
  • تمھارے حسن کو کس طرح دیکھے چشم نابینا
    قصور اس کا ہے کیا جو آپ ہے معذور آنکھوں سے
    مصحفی
  • ظلم و ستم سے جور و جفا سے کیا کیا عاشق مارے گئے
    شہرِ حسن کے لوگوں میں کرتا نہیں کوئی وفا کی طرف
    میر
  • تم دید کو کہتے ہو‘ آئینہ ذرا دیکھو!
    خود حسن نکھر آیا اس کیف تماشہ سے
    اصغر
  • حسن یوسف عشق مجنوں نعرہ منصور تھا
    ہر چراغ انجمن رشک چراغ طور تھا
    آنند نرائن ملا
  • آسماں پر حسن نے پہونچا دیا دلدار کو
    دھوپ سایہ کو کیا سورج کیا رخسار کو
    آتش
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 81

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter