Shair

شعر

وو آب و تاب حسن میں تیرے ہے اے ساجن
خورشید جس کوں دیکھ کے لرزاں ہے جیوں چراغ

(ولی)

نہ تڑپا عاشق ابرو کا مطلق زیر خنجر دل
مہم عاشقی کو کر گیا کس حسن سے سر دل

(سحر (نواب علی خان))

تجھ سا تو کوئی حسن میں یاں نازنیں نہیں
یوں نازنیں بہت ہیں، پہ ناز آفریں نہیں

(نظیر)

ان بتوں کے لیے خد اکو مان
ہو حسن تو نہ اتنا خوار عبث

((میر)حسن)

اس گل سے کیونکہ ہوئے صحبت حسن ہماری
مفلس سے آپ کو یہ زر دار کھینچتے ہیں

(میر حسن)

قدرت نے برسات میں کیا کیا حسن کِیا ہے پیدا
اطراز ہو گیا ہے عالم زمیں تا فلک سب کچھ

(فلک)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 81

Poetry

Pinterest Share