• اِک ایسے ہجر کی آتش ہے میرے دل میں جِسے
    کسی وصال کی بارش بُجھا نہیں سکتی
    امجد ‌اسلام ‌امجد
  • بارش کی دعاؤں میں نمی آنکھ کی مل جائے
    جذبے کی کبھی اتنی رفاقت بھی بہت تھی
    پروین ‌شاکر
  • پھلوں کی باغ بانی میں تو بارش کی دعا ہوگی
    گزرتے خوب صورت بادلوں کو کون دیکھے گا
    بشیر بدر
  • وہ تیروں کی بارش وہ یداللہ کا جانی
    پچوبیس پہر گزرے کہ پایا نہیں پانی
    نجم (مصور حسین)
  • آنکھ اور منظر کی وسعت میں چاروں جانب بارش ہے
    اور بارش مین‘ دُور کہیں اِک گھر ہے جس کی
    ایک ایک اینٹ پہ تیرے میرے خواب لکھے ہیں
    اور اُس گھر کو جانے والی کچھ گلیاں ہیں
    جن میں ہم دونوں کے سائے تنہا تنہا بھیگ رہے ہیں
    دروازے پر قفل پڑا ہے اور دریچے سُونے ہیں
    دیواروں پر جمی ہُوئی کائی میں چھُپ کر
    موسم ہم کو دیکھ رہے ہیں
    کتنے بادل‘ ہم دونوں کی آنکھ سے اوجھل
    برس برس کر گُزر چُکے ہیں‘

    ایک کمی سی‘
    ایک نمی سی‘
    چاروں جانب پھیل رہی ہے‘
    کئی زمانے ایک ہی پَل میں
    باہم مل کر بھیگ رہے ہیں
    اندر یادیں سُوکھ رہی ہیں
    باہر منظر بھیگ رہے ہیں
    امجد ‌اسلام ‌امجد
  • بارش کی آواز سے امجد
    شہر کا چہرہ کِھل اٹھا ہے
    امجد اسلام امجد
First Previous
1 2 3 4 5 6
Next Last
Page 1 of 6

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter