Shair

شعر

پھر وہی آنسوؤں کی بارش ہے
پھر وہی دل کی خشک سالی ہے!

(امجداسلام امجد)

چاروں طرف کمان کیانی کی وہ ترنگ
رہ رہ کے ابر شام سے تھی بارش خدنگ

(انیس)

ہر نخل پر ضیاے سر کوہ طور تھی
گویا فلک سے بارش باران نور تھی

(انیس)

شاید کوئی خواہش روتی رہتی ہے
میرے اندر بارش ہوتی رہتی ہے

(احمد ‌فراز)

میں اب کی فصل بارش میں بناتا اس کا پر نالا
جو ہوتا بانس کا ٹونٹا الف چاک گریباں کا

(ظریف لکھنؤی)

جیسے بارش سے دھلے صحنِ گلستاں امجد
آنکھ جب خشک ہوئی اور بھی چہرا چمکا

(امجد اسلام امجد)

First Previous
1 2 3 4 5 6
Next Last
Page 1 of 6

Poetry

Pinterest Share