Shair

شعر

بہت سے لوگ دل کو ا طرح محفوظ رکھتے ہیں
کوئی بارش ہو یہ کاغذ ذرا بھی نم نہیں ہوتا

(بشیر بدر)

شاید کوئی خواہش روتی رہتی ہے
میرے اندر بارش ہوتی رہتی ہے

(احمد ‌فراز)

بارش لحد پہ اشکوں کی تھی دل فگار تھا
گویا نزول رحمت پروردگار تھا

(عروج)

گریہ پہ میرے کیوں نہ وہ خندہ ہو دم بدم
بارش میں لطف رکھتی ہے برق جہاں کی سیر

(معروف)

پھر وہی آنسوؤں کی بارش ہے
پھر وہی دل کی خشک سالی ہے!

(امجداسلام امجد)

جس تنہا سے پیڑ کے نیچے ہم بارش میں بھیگے تھے
تم بھی اُس کو چھوکے گزرنا، میں بھی اُس سے لپٹوں گا

(امجد اسلام امجد)

First Previous
1 2 3 4 5 6
Next Last
Page 1 of 6

Poetry

Pinterest Share