Shair

شعر

گریہ پہ میرے کیوں نہ وہ خندہ ہو دم بدم
بارش میں لطف رکھتی ہے برق جہاں کی سیر

(معروف)

بارش لحد پہ اشکوں کی تھی دل فگار تھا
گویا نزول رحمت پروردگار تھا

(عروج)

جیسے بارش سے دھلے صحنِ گلستاں امجد
آنکھ جب خشک ہوئی اور بھی چہرا چمکا

(امجد اسلام امجد)

میں اب کی فصل بارش میں بناتا اس کا پر نالا
جو ہوتا بانس کا ٹونٹا الف چاک گریباں کا

(ظریف لکھنؤی)

بارش

ایک ہی بارش برس رہی ہے چاروں جانب
بام و در پر… شجر حجر پر
گھاس کے اُجلے نرم بدن اور ٹین کی چھت پر
شاخ شاخ میں اُگنے والے برگ و ثمر پر‘
لیکن اس کی دل میں اُترتی مُگّھم سی آواز کے اندر
جانے کتنی آوازیں ہیں…!!
قطرہ قطرہ دل میں اُترنے ‘ پھیلنے والی آوازیں
جن کو ہم محسوس تو کرسکتے ہیں لیکن
لفظوں میں دوہرا نہیں پاتے
جانتے ہیں‘ سمجھا نہیں پاتے
جیسے پت جھڑ کے موسم میں ایک ہی پیڑ پہ اُگنے والے
ہر پتّے پر ایسا ایک سماں ہوتا ہے
جو بس اُس کا ہی ہوتا ہے
جیسے ایک ہی دُھن کے اندر بجنے والے ساز
اور اُن کی آواز…
کھڑکی کے شیشوں پر پڑتی بوندوں کی آواز کا جادُو
رِم جھم کے آہنگ میں ڈھل کر سرگوشی بن جاتا ہے
اور لہُو کے خلیے اُس کی باتیں سُن لگ جاتے ہیں‘
ماضی‘ حال اور مستقبل ‘ تینوں کے چہرے
گڈ مڈ سے ہوجاتے ہیں
آپس میں کھو جاتے ہیں
چاروں جانب ایک دھنک کا پردہ سا لہراتا ہے
وقت کا پہیّہ چلتے چلتے‘ تھوڑی دیر کو تھم جاتا ہے

(امجد ‌اسلام ‌امجد)

جس تنہا سے پیڑ کے نیچے ہم بارش میں بھیگے تھے
تم بھی اُس کو چھوکے گزرنا، میں بھی اُس سے لپٹوں گا

(امجد اسلام امجد)

First Previous
1 2 3 4 5 6
Next Last
Page 1 of 6

Poetry

Pinterest Share