Shair

شعر

وہ اپنے گھر چلا گیا افسوس مت کرو
اتنا ہی اس کا ساتھ تھا افسوس مت کرو

(بشیر بدر)

افسوس گلا کاٹ کے مر بھی نہ سکے ہم
مصروف رہے ہاتھ شب ہجر دعا میں

(داغ)

نہ معرف نہ آشنا کوئی
ہم ہیں بے یارو بے دیار افسوس

(میر)

سنگ کو آب کریں پل میں ہماری باتیں
لیکن افسوس یہی ہے کہ کہاں سستے ہو

(قائم)

افسوس وے شہید کہ جو قتل گاہ میں
لگتے ہی اُس کے ہاتھ کی تلوار مرگئے

(میر تقی میر)

افسوس اے عزیزاں وہ سیم بر نہ آیا
مجھ درد کی خبر سن وہ بے خبر نہ آیا

(ولی)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 12

Poetry

Pinterest Share