Shair

شعر

لگ گئی جس کو لگن کب وہ پر افسوس جئے
شمع جلتی ہے سراپا در فانوس لئے

(نصیر دہلوی)

دل و دماغ ہے اب کس کو زندگانی کا
جو کوئی دم ہے تو افسوس ہے جوانی کا

(میر تقی میر)

آہ دست جنوں سے اے ناصح
ہے گریبان تار تار افسوس

(نصیر دہلوی)

رہی یہ چشم نت تم سے ولے افسوس اے آنکھوں
کبھی تم نے نہ دھویا دل سے میرے داغ ہجراں کو

(حسن)

خون جگر کہاں صف مژگاں کے واسطے
افسوس ایسی فوج کو ملتی رسد نہیں

(مہتاب داغ)

افسوس ہوا نے توڑ ڈالا وہ وضو
اک گھونٹ نے کر دیا وہ روزہ باطل

(دست زرفشاں)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 12

Poetry

Pinterest Share