Shair

شعر

دنیا میں اور چاہنے والے بھی ہیں بہت
جوہونا تھا وہ ہوگیا افسوس مت کرو

(بشیر بدر)

دل و دماغ ہے اب کس کو زندگانی کا
جو کوئی دم ہے تو افسوس ہے جوانی کا

(میر تقی میر)

میں بڑا چکما کھا گئی افسوس
جو ترے جل میں آگئی افسوس

(شوق)

کردیے افسوس وہ روزن ہی جاسوسوں نے بند
جن میں کچھ تھوڑی سی تھی آنکھیں لڑانے کی جگہ

(انتخاب رامپور)

ہر آنکھ میں افسوس نے جالے سے تنے ہیں
ماحول کے جادُو سے رہا کوئی نہیں ہے

(امجد اسلام امجد)

افسوس کیا کروں ماں اجڑیاں یوبیگا بیگی
طاقت تبی رہی نیں اس دُکھ سوں دل جلی کا

(ہاشمی)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 12

Poetry

Pinterest Share