Shair

شعر

گل ہی کی اور ہم بھی آنکھیں لگا رکھیں گے
ایک آدھ دن جو موسم اب کی وفا کرے ہے

(میر تقی میر)

میری آنکھیں پونچھنے والے ذرا دامن بچا
آگ کا شعلہ ہیں آنسو‘ قطرۂِ شبنم نہیں

(طفیل ‌ہوشیار ‌پوری)

آنکھیں ملے اٹھا ہے اگر سو کے آفتاب
لازم ہے آئے سامنے منہ دھو کے آفتاب

(انیس)

یہ نکلیں ایک افیونی کی آنکھیں گور سے باہر
کہ لالہ جی نے دیکھا کاسہ تریاک کا جوڑا

(انشا)

جو آنکھیں ہوں تو ہر قطرے سے شبنم کے یہ ہے روشن
دریں گلشن میسر نیست ترک اھولی کردن

(سودا)

وہ دیکھنے ہمیں ٹک بیماری میں نہ آیا
سوبار آنکھیں کھولیں بالیں سے سراٹھایا

(میر)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 61

Poetry

Pinterest Share