Shair

شعر

نشاں یہ کیسے ہیں شانوں پہ جبکہ یہ پوچھا
زمیں سے لگ گئیں آنکھیں زباں سے کچھ نہ کہا

(شمیم)

بَس گئیں یُوں مری آنکھوں میں کسی کی آنکھیں
ڈھونڈتا پھرتا ہوں ہر جھیل میں اپنی آنکھیں

(رُوحی ‌کنجاہی)

نہ لگتی آنکھ تجھ سے کاش ظالم کب تلک روؤں
کہ آنکھیں دُکھنے آئیں اور مرے دیدے کھٹکتے ہیں

(جرأت)

تھا ایک کحال پیر دیریں
عیسٰی کی تھیں اس نے آنکھیں دیکھیں

(گلزار نسیم)

کیا تھمے مینھ سقف چھلنی تمام
چھت سے آنکھیں لگی رہے ہیں مدام

(میر)

کہیے تو نیزہ بازوں کو ہم دیکھ بھال لیں
تیوری کوئی چڑھائے تو آنکھیں نکال لیں

(انیس)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 61

Poetry

Pinterest Share