Shair

شعر

آنکھیں اس واسطے خالق نے عنابت کی ہیں
آدمی دیکھے کہ انسان کی حقیقت کیا ہے

(امان علی)

حسن تصور کا مزا پوچھے مرے دل سے کوئی
جب دونوں آنکھیں بند کیں تو کھل گئے چودہ طبق

(اعجاز نوح)

تھی خطا ان کی مگر جب آگئے وہ سامنے
جھک گئیں میری ہی آنکھیں رسم الفت دیکھیے

(جوش)

ڈوب جائیں گے ستارے اور بکھر جائے گی رات
دیکھتی رہ جائیں گی آنکھیں گزر جائے گی رات

(شہزاد ‌احمد)

دم نظارہ رخ رنگین
برق عارض نے آنکھیں جھپکادیں

(قلق)

ملتی ہے نظر جس سے جھکا لیتا ہے آنکھیں
منھ دیکھتی ہوں جسکا جھپالیتا ہے آنکھیں

(شہید لکھنوی)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 61

Poetry

Pinterest Share