Shair

شعر

بیٹھے سے بیگار بھل آج اس کے گھر چل دیکھوں میں
اور نہ ہو کچھ حاصل رخ پر آنکھیں تو پڑجائیں گی

(شوق قدوائی)

چمن کی بزم میں جاتی ہے اب جدھر آنکھیں
اسی کے حسن کو لاتی ہیں ڈھنڈھ کر آنکھیں

(شمیم)

شہرہ دیکھا تو کھل گئیں آنکھیں
ماہرویوں پہ ڈھل گئیں آنکھیں

(داغ)

میں قربان ہوں تیری نظروں کے یار
ملاتے ہی آنکھیں گمایا مجھے

(شاہ نیاز)

رو رو کے ان کی یاد میں آنکھیں کروں سفید
بس یوں ہی صبح ہوگی پب انتظار کی

(الماس درخشاں)

عہد جوانی رُو رُو کاٹا پیری میں لیں آنکھیں موند
یعنی رات بہت تھے جاگے صُبح ہوئی آرام کیا

(میر تقی میر)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 61

Poetry

Pinterest Share