• آنسو بھر لاکے بہت حزن سے یہ کہنے لگا
    کیا کہوں تجھ کو سمجھ اس پہ نہیں یار ہنوز
    میر تقی میر
  • دوستو جشن مناؤ کہ بہار آئی ہے!!
    پھول گرتے ہیں ہر اِک شاخ سے آنسو کی طرح
    عبید ‌اللہ ‌علیم
  • کھڑی ہیں موقف فریاد پر آنکھوں میں آنسو ہیں
    نظر اُسکے کرم پر دل میں حسرت ہائے پنہانی
    عزیز لکھنؤی
  • شام کے پیر کی سرمئی شاخ پر پتیوں میں چھپا کوئی جگنو بھی ہے
    ساحلوں پرپڑی سیپیوں میں کہیں جھلملاتا ہوا ایک آنسو بھی ہے
    بشیر بدر
  • نالے آٹھ آٹھ آنسو روتے ہیں
    شرم سے ڈیرے آب ہوتے ہیں
    سودا
  • بھر آئے آنکھ میں آنسو جو دیکھکر یہ حال
    کلیجھ تھام کے بس رہ گیا علی کا لال
    حیدرحسین
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 29

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter