Shair

شعر

دلِ عاشق میں کرے کیونکہ نہ آنسو سُوراخ
اسی الماس سے جاتا ہے یہ بیندھا گوہر

(ذوق)

اک بے وفا کے سامنے، آنسو بہاتے ہم
اتنا ہماری آنکھ کا پانی مرا نہ تھا

(بشیر بدر)

اے فلک گریہ پیہم ہے یہ کس کے غم میں
دامن ابر سے چھنتے ہیں برابر آنسو

(نسیم دہلوی)

جھڑ لگی آنسووں کی ہاے مری آنکھوں سے
آ خدا کے لیے ساون میں مرے آنسو تھام

(تراب)

یہ کہتے ہی تیور علی اکبر نے پھرائے
ہمراہ دم سرد کے آنسو نکل آئے

(انیس)

تدبیر اک نکالی ہے آنسو نہ اب بہاؤ
ہم پانی لینے جاتے ہیں تم ماں کے پاس جاؤ

(انیس)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 29

Poetry

Pinterest Share