• ہوں وہ غمدیدہ گرا نظروں سے اک دم میں وزیر
    کی جگہ بھی جو کسی آنکھ میں آنسو کی طرح
    وزیر
  • گیس آنسو رلا رہی ہے غضب
    چار جانب پولیس کا ڈیرا ہے
    ابن انشا
  • شمول خون دل سے ہو گیا گل رنگ یا شاید
    تمہارے رنگ عارض کا اثر ہے میرے آنسو میں
    نقوش مانی
  • اس کے قربان جو دو آنکھوں سے چار آنکھیں دیں
    کرتی مضمون ہوں آنسو کی دعا سے پیدا
    جان صاحب
  • مرے آنسو ہیں ساون کے ترورے
    امنڈ آتے ہیں برسا کر دڑوڑے
    ساسی
  • شام کے پیر کی سرمئی شاخ پر پتیوں میں چھپا کوئی جگنو بھی ہے
    ساحلوں پرپڑی سیپیوں میں کہیں جھلملاتا ہوا ایک آنسو بھی ہے
    بشیر بدر
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 29

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter