Shair

شعر

تمہاری شکل بھی دھندلاگئی نگاہوں میں
بھرے ہوں آنکھ میں آنسو تو کیا نظر آئے

(وحیدہ نسیم)

دلِ بے حوصلہ ہے اِک ذرا سی ٹھیس کا مہماں
وہ آنسو کیا پئے گا‘ جس کو غم کھانا نہیں آتا

(یاس ‌یگانہ)

آنسو تو دامن سے پوچھوں ہچکی کیوں کر روکوں میں
لاکھ چھپاؤں عشق کو لیکن پانی پھر بھی مرتا ہے

(شوق قدوائی)

مچا تھا شہر میں کُہرام کل سورج کے مرنے پر
تیری آنکھوں سے لیکن ایک آنسو بھی نہیں نکلا

(اقبال ‌ساجد)

آنسو آئیں جوش پر تو روکنے والا ہے کون
آنکھیں ہیں گنگ و جمن عالم خس و خاشاک ہے

(رشک)

شمع روئے قبر پر گل رُو ہمارے واسطے
حیف تو ڈالے نہ دو آنسو ہمارے واسطے

(معروف)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 29

Poetry

Pinterest Share