• شدت غم کا تقاضا تھا کہ دواے گلرو
    ظلم کے ڈر سے مگر سوکھ گئے تھے آنسو
    شمیم
  • روکے کسے کسے یہ مری آستیں فغاں
    وہ تو جدا چلا مرے آنسو جدا چلے
    فغان
  • ہمشکل نبی کھا کے جو برچھی کا پھل آئے
    دل لاکھ سنبھالامگر آنسو نکل آئے
    منظور راے پوری
  • منھ پھیر کے روتے تھے سبھی ظالم بدخو
    لیکن بن کاہل کی نہ تھا آنکھ میں آنسو
    برجیس
  • کرتا ہے یوں گرہ اب آنسو سر مژہ پر
    بازی سے جوں کبوتر اے کجکلاہ اولٹے
    شاہ نصیر
  • آنکھوں سے اپنی آنسو کچھ ایسے پھوٹ نکلے
    فوارے کے کسی نے جیسے ہو نل کو توڑا
    انشا
First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 29

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter