Shair

شعر

بجز ذات نہیں کچھ خاک اظہار محبت میں
بہاتے ہیں جو آنسو آبروبرباد کرتے ہیں

(دیوان اسیر)

بداگی مراسن نے گای جوواں
ہوئے سب کی آنکھوں سے آنسو رواں

(طلسم جہاں)

روک لے اے ضبط‘ جو آنسو کہ چشم تر میں ہے
کچھ نہیں بگڑا ہے اب تک گھر کی دولت گھر میں ہے

(احسن مارہروی)

دھوتے ہیں ہر ایک شے کو پانی سے مگر
آنسو ہیں فقط گناہ دھونے کے لیے

(دبیر)

ہم دونوں دیکھتے رہے بندھن کا ٹوٹنا
تم مسکرا کے رہ گئے‘ آنسو بہا کے ہم

(قیوم ‌سروری)

تونے کیا سوچ کے دامن میں جگہ دی اے دوست
اک لرزتا ہوا آنسو تھا‘ ستارا تو نہ تھا

(نامعلوم)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 29

Poetry

Pinterest Share