Shair

شعر

کوئی اپنا زمانہ یاد کرکے دل بھر آیا تھا
جو اب آنسو کوئی دیکھو تو محفل سے اٹھا دینا

(نامعلوم)

رشک ہے ہم کو زیادہ نہ وفا دار ملا
نکل آئے دمِ مردن تہہِ خنجر آنسو

(تسلیم)

خوں کے قطرے جو مصلے پہ پر اک سوٹپکے
یہ ستم دیکھ کے شبنم کے بھی آنسو ٹپکے

(شمیم)

آنسو کبھی پلکوں پر تادیر نہیں رکتے
اڑجاتے ہیں یہ پنچھی جب شاخ لچکتی ہے

(بشیر بدر)

سوزش بہت ہو دل میں تو آنسو کو ہی نہ جا
کرتا ہے کام آگ کا ایسی جلن میں آب

(میر)

منھ پھیر کے روتے تھے سبھی ظالم بدخو
لیکن بن کاہل کی نہ تھا آنکھ میں آنسو

(برجیس)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 29

Poetry

Pinterest Share