Shair

شعر

دونو مل کے لاک آرزو ہور جاؤ
کہے شہ ترا درد ہمناں کوں آؤ

(قطب مشتری)

حاصل سے ہاتھ دھو بیٹھ اے آرزو خرامی
دل جوش گریہ میں ہے ڈوبی ہوئی اسامی

(غالب)

کسی بہار سے تسکین آرزو نہ ہوئی
جو پھول صبح کھلے‘ شام کو پرائے لگے

(سلیم ‌احمد)

ڈھب پر اپنے اسے لگا لوں گا
حسرت و آرزو نکالوں گا

(مومن)

نہ خویشوں کو دیکھے نہ مادر کو تو
بر آوے نہ زنہار یہ آرزو

(شمشیر خانی)

آرزو رہ گئی اس کوچے میںپامال کی
دھوم ہی دھوم فقط چرخ جفا کر کی تھی

(آتش)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 21

Poetry

Pinterest Share