Shair

شعر

پھولوں کی آرزو کا صلہ کچھ تو چاہیئے
اے بے نیاز خار ہی دامن میں ڈال دے

(عبدالحمید ‌ارشد)

آرزو رہ گئی اس کوچے میںپامال کی
دھوم ہی دھوم فقط چرخ جفا کر کی تھی

(آتش)

سراپا آرزو ہونے نے بندہ کر دیا ہم کو
و گرنہ ہم خدا تھے گر دل بے مدعا ہوتا

(میر)

نگاہِ شوق میرا مدعا تو ان کو سمجھادے
میرے منہ سے تو حرفِ آرزو مشکل سے نکلے گا

(فانی)

ہم خون آرزو کا جو محضر بنائیں گے
تجھ کو گواہ اے دل مضطر بنائیں گے

(تعشق)

عمر کم ہونے لگی اور آرزو بڑھنے لگی
اشتیاق یار نے دل میں جو نازل کی ہوس

(شرف (آغا حجو))

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 21

Poetry

Pinterest Share