English WordAria / Geet / Song

"گیت" کا رواج اُردو شاعری میں ،ہندی شاعری کا رہینِ منّت ہے۔امیر خسرو دہلوی نے ریختہ میں اعلٰی پائے کے گیت کہے۔ "امّاں میرے باوا کو بھیجو ری کہ ساون آیا!" امیر خسرو کا لافانی گیت ہے۔ اصطلاحی شاعری میں گیت ایسی نظم ہے جس میں شاعر کسی کے جذبات و احساسات کو نہایت سلیس اور شیریں زبان میں پیش کرتا ہے۔ اکثر گیتوں میں ہندی کے عام فہم اور سہل و مانوس الفاظ کی آمیزش کسی قدر زیادہ ہوتی ہے۔ اس میں الفاظ کی صوتیات و آہنگ کا خیال رکھنے کے ساتھ ساتھ جذبات نگاری پھر بھی خصوصی توجہ دینا لازم ہے۔ اردو شاعری کے نام ور گیت نگاروں میں آنند بخشی،کیفی اعظمی،جاوید اختر، قتیل شفائی، شکیل بدایونی ،جوش ملیح آبادی، ساحر لدھیانوی،مجروح سلطان پوری، اختر شیرانی،سیف الدین سیف اور حفیظ جالندھری وغیرہ کے نام نمایاں ہیں۔ان شاعروں نے فلمی گیت بھی کہے اور بہترین کہے۔ُپرانے زمانے کی اردو فلمیں اسی لیے باقی رہ گئیں کہ اُن کے گیت ادبی ہوا کرتے تھے۔۔۔ جوش ملیح آبادی نے فلم"آگ کا دریا" کے گیت لکھے تھے۔آج بھی کوئی گیت نگار اُن گیتوں کی مٹھاس اور نغمگی کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔۔۔ فضا سے موتی برس رہے ہیں۔۔۔۔ہوا ترانے سُنا رہی ہے۔۔۔۔" یہ گیت ملکۂ ترنم نور جہاں نے گایا تھا اور شمیم آرا پر فلمایا گیا تھا۔

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter