English NameTeeth , Tooth

Type (Internal, External)Internal

Pluralدانتوں

No name in Urduاسنان۔دندان

Type (Internal, External) in Urduاندرونی

ہندی اسم مُذکر ، بمعنی دندان ، انسان اور حیوان کے منھ میں کاٹنے اور چبانے کا عضو لُغوی اعتبار سے "دانت" میل ، رغبت، خواہش،قصد،ارادہ،دندانہ یا دانتا کو کہا جاتا ہے۔ دانت (جمع دانتوں) فقاری جانداروں کے منہ میں پائے جانے والے چھوٹے چھوٹے سخت اور نوکیلے سفید رنگ کے ہوتے ہیں جوکہ غذا کو توڑنے، چبانے یا چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کے کام آتے ہیں۔ خاص طور پر گوشت خور جاندار دانتوں کی مدد سے شکار بھی کرتے ہیں اور اپنے بچاؤ یا دفاع کے لئے بھی دانتوں کو استعمال کرتے ہیں۔ دانتوں کی جڑیں منہ میں موجود مسوڑوں میں ہوتی ہیں، جہاں یہ نہایت مضبوطی سے جڑے ہوتے ہیں۔ یہ نوکیلے اور سخت دانت ہڈی کے نہیں بلکہ ٹھوس نسیج کے بنے ہوتے ہیں۔ دانت پستانیہ جانداروں میں پائے جانے والی امتیازی (اور طویل عرصے تک رہنے والی) صفات میں سے ایک ہے۔ یہ جبڑے کی ہڈیوں سے سوراخ بناکر باہر نکلتے ہیں۔ ان کو مسوڑھے اپنی جگہ پر مُحکم رکھتے ہیں۔ اگر مسوڑھے خراب ہوجائیں تو دانت اپنے سوراخوں میں ڈھیلے ہوکر ہلنے لگتے ہیں اور اُکھڑ جاتے ہیں۔ دانتوں کی تعداد کا تعلق عمر سے ہوتا ہے۔ بچّے کے دانت چھ ماہ میں نکلنا شروع ہوتے ہیں اور ڈھائی سال تک نکلتے ہیں۔ ان کی تعداد بیس ہوتی ہے۔ یہ چھوٹے‘ کمزور مگر تیز ہوتے ہیں۔ عرفِ عام میں انہیں دودھ کے دانت کہا جاتا ہے۔ بارہ سال کی عمر میں اصلی دانت نکل آتے ہیں جن کی تعداد اٹھائیس یا تیس ہوتی ہے۔ بلوغت کے بعد ایک ایک داڑھ اور نکلتی ہے جسے عقل داڑھ کہتے ہیں۔ اس طرح ان کی کُل تعداد بتّیس ہوجاتی ہے۔ دانت کے اندر گودے کا ایک قلب ہوتا ہے جس میں عروقِ خون اور اعصاب موجود ہوتے ہیں۔ یہ کیلشیم سے ڈھکا ہوتا ہے۔ مسوڑھے کے اوپر والا حصّہ تاج (کراؤن) کہلاتا ہے۔ اس حصّے کے اوپر سخت مادّہ چڑھا ہوتا ہے جو دانت کی حفاظت کرتا ہے اور یہی مادّہ اینامَل Enamal یا دانتوں کی پالِش کہلاتا ہے۔ عمدہ اور صاف و سفید دانت خوبصورتی کا باعث ہوتے ہیں۔ بولنے‘ گانے اور الفاظ کا صحیح تلفظ ادا کرنے میں مدد دیتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی غذا کو چبا کر ہضم ہونے میں بھی معاون ہوتے ہیں۔ دانت، لعاب دہن اور غذا کو باہر نکلنے سے روکتے ہیں۔ اگر دانت کسی وجہ سے بے ترتیب مثلاً اوپر نیچے یا باہر نکلے ہوئے یا اندر کی طرف مُڑے ہوئے ہوں تو جدید طبّی طریقوں سے انہیں درست شکل میں لایا جاسکتا ہے لیکن عموماً خیال کیا جاتا ہے کہ اس علاج کے بعد دانت کمزور ہوجاتے ہیں۔ اردو لُغت میں "دانت" کے مختلف محاورات: دانت بٹھادینا: مجبور کردینا دانت بجنا: سردی سے دانت کڑکڑانا دانت بنوانا: مصنوعی دانت لگوانا دانت بیٹھ جانا: بے ہوش ہو جانا دانت پر میل نہ ہونا:نہایت غریب ہونا ، فاقے کرنا دانت پِیسنا: سخت غصہ کرنا دانت تلے اُنگلی دبانا:تعجب کرنا،حیران ہونا دانت تلے زبان(جیبھ)دابنا: صبر کرنا دانت تلے ہونٹ دبانا: غصہ کرنا دانت تیز کرنا:لالچ کرنا دانت دیکھنا: عمر کی شناخت کرنا دانت ہونا: کسی چیز کی بہت خواہش ہونا دانت کِرکِرے ہونا: ہار مان لینا دانت سے زبان کاٹنا: کوئی بات کہہ کر پچھتانا دانت کھٹے کردینا:عاجز کردینا، ہمت توڑ دینا دانت نکالنا: شرمندہ ہو کر ہنسنا، بے موقع ہنسنا دانت نکوسنا:درندے کا غصے سے دانت نکالنا وغیرہ وغیرہ !

Android app on Google Play
iOS app on iTunes
googleplus  twitter