URDU encyclopedia

اردو انسائیکلوپیڈیا

search by category

قسم کے ذریعہ تلاش کریں

search by Word

لفظ کے ذریعہ تلاش کریں

Kidneys گُردا / گُردہ

English NameKidneys
Type (Internal, External)Internal
Pluralگُردے ۔ گُردوں
No name in Urdu
( Suggest ) ( تجویز کریں )
كليه هام(فارسی) ۔ كلاوي (عربی)
Type (Internal, External) in Urduاندرونی اخراجی اعضاء

Description

تفصیل

فارسی اسمِ مُذکر ،انسان یا حیوان کا اندرونی عضو جو آنتوں کے پیچھے ریڑھ کی ہڈی کے قریب جوڑے کی شکل میں ہوتا ہے ۔گُردوں کا کام خُون میں سے غیر ضروری مادّوں کو علٰحیدہ کرکے مثانے تک پہنچانا ہے جو انہیں پیشاب کے ساتھ خارج کردیتا ہے۔ لُغوی معنوں کے لحاظ سے "گُردہ" جُرات ، دلیری، حوصلہ، ایک قسم کی چھوٹی توپ،ایک قسم کا کف گیر، ایک قسم کی چھوٹی لگام کو بھی کہتے ہیں ۔ "گُردہ ہونا" اُردو محاورہ ہے جس کا مفہوم "حوصلہ ہونا،دلیری ہونا" ہے۔ علم الابدان کے لحاظ سے گُردے کو "کلیہ" بھی کہا جاتا ہے اور انگریزی میں اس کو kidney اور renalis یا nephric بھی کہتے ہیں۔ گردے دراصل لوبیے کی شکل کے دو عدد اخراجی اعضاء ہیں جو کہ خون میں پیدا ہوتے رہنے والے غیرضروری اجزاء (بطور خاص یوریا) کو خون سے الگ کر کے یا چھان کر، پانی کے ساتھ پیشاب کی شکل میں جسم سے خارج کردیتے ہیں۔ طب و حکمت کی وہ شاخ جس میں گردوں کی تشریح ، فعلیات ، امراضیات اور معالجے کا مطالعہ کیا جاۓ ، اسے "علم کلیہ" (nephrology) کہتے ہیں۔ انسان میں گردے ریڑھ کی ہڈی کے دونوں اطراف ، پیٹ کے پچھلے حصے یعنی کہ کمر کی دیوار کی جانب پاۓ جاتے ہیں۔ دائیاں گردہ جگر کے نیچے اور بائیاں گردہ طحال (spleen) کے نیچے پایا جاتا ہے۔ ہر گردے کے بالائی سرے پر ایک چھوٹا جسم پایا جاتا ہے جسکو کظر (adrenal) کہتے ہیں یہ دراصل ایک غدود ہوتا ہے جس سے ہارمونز کا اخراج عمل میں آتا ہے۔ گردوں کے مقام کے بارے میں ایک اور اہم بات یہ ہے کہ دائیاں گردہ بائیں کی نسبت کچھ نیچا ہوتا ہے۔ گردے پس صفاق (retroperitoneal) اعضاء ہوتے ہیں یعنی یہ پیٹ کے خانے کی جھلی ، جسے peritoneum کہتے ہیں کے پیچھے پاۓ جاتے ہیں۔ ریڑھ کی ہڈی کے مہروں پر ان کا جاۓ مقام سینے کے بارہویں فقرے سے نچلی کمر کے تیسرے فقرے تک ہوتا ہے ۔ گُردوں کے اس مقام کا فائدہ یہ ہے کہ اس جگہ کے باعث ان کا بالائی حصہ پسلیوں کے ذریعے حفاظت میں آجاتا ہے جہاں کظر موجود ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ ہر گردہ چربی سے بنی ہوئی دو عدد تہوں میں لپٹا ہوا ہوتا ہے، جن کو perinephric اور paranephric کہتے ہیں، یہ دونوں تہیں گردوں کی حفاظت کے لیے گدے کی طرح کا کام کرتی ہیں۔ پیدائشی طور پر گردوں کے نہ ہونے یا غائب ہونے کو لاتولد کلوی (renal agenesis) کہتے ہیں۔ انسان میں گردے کی لمبائی عام طور پر تقریبا 12 سینٹی میٹر ہوا کرتی ہے جبکہ ان کی موٹائی 5 سینٹی میٹر اور وزن 150 گرام ہوتا ہے۔ ان کی شکل لوبیا کے دانے کی مانند ہوتی ہے جس میں اندرونی یا وسطی جانب کا رخ مقعر (concave) ہوا کرتا ہے جبکہ جانبی رخ نسبتا محدب (convex) ہوتا ہے۔ مقعر رُخ کی جانب ہر گردے میں ایک گڑھا ہوتا ہے جس کو hilum کہتے ہیں ، اسی گڑھے سے گردوں میں خون لے جانے والی شریان ، شریان کلوی داخل اور خون نکالنے والی ورید کلوی خارج ہوا کرتی ہے۔ ہر گردے کو ایک شریان خون فراہم کرتی ہے جسے شریان کلوی کہتے ہیں جو کہ بذات خود بطنی اُبھر (abdominal aorta) کی ایک شاخ ہوتی ہے۔ کلیون (nephron) دراصل گردوں کی اصل فعلیاتی اکائیوں کو کہا جاتا ہے، یا یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ کلیون ہی دراصل گردے میں خون چھاننے والی ساخت ہے۔ اور ایک گردے میں تقریبا 3 تا 10 لاکھ سے زائد کلیونات ہوتے ہیں جو کہ گردوں کی قشرہ اور لب دونوں حصوں میں پائے جاتے ہیں۔ کلیون میں خون کے تصفیہ سے جو مائع یا سیال چھن کر نکلتا ہے وہ اس کے پچھلی جانب جڑی ہوئی نالیوں کے نظام میں آجاتا ہے جس کو نظام قنات تجمیع کہتے ہیں۔ یہ حصہ جاندار کے جسم میں سیال یا پانی کی مقدار کو برقرار رکھنے کے لیے نہایت اہم ہے کیونکہ جب جسم میں پانی کی ضرورت سے زیادہ مقدار ہو تو یہ اسے پیشاب میں خارج کرواتا ہے اور اگر پانی کی جسم میں کمی ہو تو یہ اسے پیشاب میں خارج ہونے سے روکتا ہے۔ ایک ہارمون جس کو پیشاب مخالف ہارمون کہا جاتا ہے، کی موجودگی میں یہ قناتیں یا نالیاں پانی کے لیے قابل گذر ہوجاتی ہیں اور یوں خون کے چھنے ہوۓ سیال میں سے زیادہ تر پانی واپس خون میں جذب ہوجاتا ہے اس طرح پیشاب مرتکز ہوکر اس میں خارج ہونے والے پانی کی مقدار کم ہو جاتی ہے۔ گردے استقلاب (metabolism) کے نتیجے میں پیدا ہونے والے فالتو اور مضر مواد کو جسم سے خارج کرتے ہیں۔ استقلاب ، جسم میں غذا کی توڑ پھوڑ کے عمل کو کہا جاتا ہے جس کے نتیجے میں توانائی ، پانی اور فالتو مادے مثلا یوریا اور یورک ایسڈ وغیرہ پیدا ہوتے ہیں۔ گردے پیشاب کی pH کو 5 تا 8 تک کی حد کے درمیان کم یا زیادہ کرتے ہوۓ خون کی pH کو زندگی کے لیے موزوں ترین مقام یعنی 4.7 پر قائم رکھتے ہیں۔ گردوں کے کلیون میں موجود مجاور کبیبہ (juxtaglomerular) خلیات ، خون کے دباؤ کے لیے حساسیت کے حامل ہوتے ہیں اور جب جسم میں خون کا دباؤ کم ہونے لگتا ہے تو ان سے ایک مادہ "رینن" خارج ہوتا ہے۔ یہ رینن ، خون میں موجود ایک لحمیہ انجیوٹینسینوجن کو "انجیوٹینسین I "میں تبدیل کردیتا ہے ۔ جب جسم میں پانی کی مقدار کم ہونے لگتی ہے تو گردے پیشاب میں پانی کا اخراج کم کردیتے ہیں ایسا پیشاب مخالف ہارمون کی مدد سے کیا جاتا ہے جو کہ عقبی نخامیہ (posterior pituitary) سے خارج ہوتا ہے۔ اور یہ ہارمون (جیسا کہ پہلے بھی بیان ہوا) پیشاب میں پانی کی مقدار کم کرکے اس کو مرتکز بناتا ہے۔ گردے کئی ہارمون بھی جسم میں خارج کرتے ہیں مثلاً، اریتھروپوئٹین ، یوروڈائلیٹن اور وٹامن ڈی وغیرہ۔ طب میں گردہ کو" کلیہ" کہا جاتا ہے اور اس مضمون میں اس لفظ کو اختیار کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اگر لفظ گردہ استعمال کیا جاۓ تو اس کے زریعے علم گردہ میں استعمال ہونے والے دیگر بہت سارے الفاظ کی اصطلاحات نہیں بنائی جاسکتیں۔ کلیہ ، کلوی دونوں لفظ گردے سے تعلق رکھنے والی چیز کے لیے استعمال ہوتے ہیں انگریزی میں renal یا nephric گردے سے تعلق رکھنے والی چیز کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ انسانی گُردے تقریباً چار انچ لمبے، ڈھائی انچ چوڑے ، ڈیڑھ انچ موٹے اور تقریباً ساڑھے چار اونس وزن کے ہوتے ہیں۔ داہنا گُردہ بائیں گُردے کے مقابلے میں لمبا اور پتلا ہوتا ہے ان کا رنگ گہرا کتھئی اور شکل سیم کے بیج کی طرح ہوتی ہے۔ یہ جوفِ شِکم میں کمر کی ہڈی کے دونوں جانب ایک جِھلّی میں لپٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ داہنا گُردہ بائیں کے مقابلے میں ذرا نیچے ہوتا ہے۔ ان کی جِھلّی پر عام طور سے چربی چڑھی ہوتی ہے جو ان کو چوٹ یا ضرب سے بچاتی ہے۔ گردے کے درمیان میں کمر کی ہڈی کی جانب کی سطح مقعر (Concaua) ہوتی ہے جہاں سے ایک نلّی حالب Ureter دونوں جانب سے نکلتی ہے جو گردوں سے پیشاب کو مثانہ میں جمع کرتی ہے۔ اسی مقام پر خون کی شریانیں اور وریدیں بھی داخل و خارج ہوتی ہیں۔ اس گردے کے گڑھے کو ناف گردہ Hilum کہتے ہیں۔ جسم سے فاضل مادوں کے باقاعدہ اخراج کے لئے ضروری ہے کہ گردوں کو وافر مقدار میں خون کی رسد فراہم ہوتی رہے۔ گردوں کو خون فراہم کرنے والی بنیادی شریانیں تقسیم ہوتی ہوئی براہ راست آتی ہیں۔ ایک منٹ میں گردوں سے تقریباً بارہ سو مکعب سینٹی میٹر خون گزرتا ہے۔ خون کی یہ مقدار دل سے نکاس ہونے والی خون کی مقدار کے ایک چوتھائی کے برابر ہوتی ہے۔ یہ مقداراس سے زیادہ بھی ہوسکتی ہے۔ گردے کے باہر والے حصے کو جزقشری Cortea کہتے ہیں اور اندرونی حصے کو جز لبی Medulla کہتے ہیں جو کہ پیلے رنگ کا ہوتا ہے۔ جز لبی مخروطی شکل کے اُبھاروں پر مشتمل ہوتا ہے جن کو اہرامات (پیرامائڈ) کہتے ہیں۔ ان اہرامات کے درمیان خلا ہوتے ہیں جن کا نام Calycas ہے۔ ایسے تقریباً بارہ خلا مل کر ایک درمیانی بڑا خلا جیب الکلیہ Peluis بناتے ہیں جہاں سے ایک نلی حالب نکلتی ہے جو مثانہ تک جاتی ہے۔ گردے جسمانی نظام میں پانی کی مقدار کے توازن کو درست رکھتے ہیں جو مثانہ تک جاتی ہے اور نمکیات کی طبعی مقدار اور خون کے ردعمل کو باقاعدہ رکھتے ہیں۔

Poetry

Pinterest Share