URDU encyclopedia

اردو انسائیکلوپیڈیا

search by category

قسم کے ذریعہ تلاش کریں

search by Word

لفظ کے ذریعہ تلاش کریں

Teacher مُعَلِّم

English NameTeacher
No name in Urdu
( Suggest ) ( تجویز کریں )
N\A

Description

تفصیل

لفظِ مُعَلِّم علم سے ماخوذ ہے جس کے معنی ہیں علم دینے یا سکھانے والا۔ یوں تو ماں کی گود پہلی درسگاہ کہلاتی ہے جہاں بچہ وہ کچھ سیکھ لیتا ہے جو کوئی اور مُعَلِّم اسے نہیں سکھا سکتا۔تاہم یہ ایک ایسا پیشہ ہے جس کی صحت مند ترقی پر‘ قوموں کی ترقی کا انحصار ہوتا ہے۔ دو طریقوں سے تعلیم دی جاتی ہے۔ ایک رسمی (formal)دوسرا غیر رسمی(informal)۔ رسمی طریقۂِ تعلیم وہ طریقہ ہے‘ جو تعلیمی اداروں میں باقاعدہ کسی ملک کی پالیسی کے تحت رائج ہوتا ہے۔ جبکہ غیر رسمی طریقۂِ تعلیم میں وہ تمام طریقے شامل ہیں جو اسکول‘ کالج یا جامعات سے ہٹ کر رائج ہوتے ہیں۔ ان دونوں طریقہ ہائے تعلیم میں مُعَلِّم وہ خاص فرد ہے جو تعلیم دینے کا ذمہ دار ہے۔ ابتدائی(پرائمری) تعلیم‘ثانوی تعلیم اور اعلیٰ تعلیم۔۔۔۔۔۔۔ یہ وہ تین شعبے ہیں جن کے لیے مُعَلِّمین کی خصوصی تعلیم و تربیت درکار ہوتی ہے۔ موجودہ دور میں ابتدائی تعلیم سے پہلے ہی رسمی تعلیم کا جو مرحلہ رائج کر دیا گیا ہے وہ کنڈرگارٹن اور مونٹیسوری سسٹم کے نام سے موسوم ہے۔ جہاں ڈھائی تین سال کے بچوں کو داخل کرا دیا جاتا ہے اور ان کی تعلیم کے لیے خصوصی تربیت حاصل کرنے والی مُعَلِّمات مقرر کی جاتی ہیں جو بچوں کی نفسیات کے مطابق کھیلتے کودتے ہوئے انہیں پڑھنے لکھنے کی طرف لے جاتی ہیں۔ ان مُعَلِّمات کے لیے مخصوص تعلیمی نصاب ہوتا ہے۔ ابتدائی تعلیم کے لیے جو مُعَلِّمین و مُعَلِّمات مقرر کیے جاتے ہیں ان کے لیے پی ٹی سی(primary teaching certificate) کی سند لازمی ہوتی ہے یہ پہلی سے پانچویں جماعت تک کے مُعَلِّمین ہوتے ہیں اور کسی خاص مضمون کے بجائے تمام مضامین کی تدریس ان کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ چھٹی جماعت سے ثانوی تعلیم کا دور شروع ہو جاتا ہے جو دسویں جماعت تک پہنچتا ہے۔ چھٹی جماعت سے آٹھویں جماعت تک کے مُعَلِّمین کی تعلیمی قابلیت کم از کم سی ٹی (certificate of teaching)ہوتی ہے۔ اس دورِ تعلیم کے مُعَلِّمین بھی عام طور پر تمام مضامین ہی پڑھاتے ہیں البتہ بعض اساتذہ بعض مضامین میں اتنی مہارت حاصل کر لیتے ہیں کہ صدر مُعَلِّم اُس مُعَلِّم کو کسی خاص مضمون کی تدریس کی ذمہ داریاں سونپ دیتا ہے۔ نویں اور دسویں جماعت کے دور میں جو مُعَلِّمین تدریس کے فرائض انجام دیتے ہیں ان کی کم از کم قابلیت بی ایڈ ہوتی ہے ان جماعتوں کی تدریس کے لیے اس بات کا اہتمام کیا جاتا ہے کہ جس مُعَلِّم کی جن مضامین میں مہارت ہو اسے وہی مضامین پڑھانے کی ذمہ داری دی جائے۔سائنسی علوم کی تدریس میں اس بات کا خاص خیال رکھا جاتا ہے کہ مُعَلِّم جو مضمون پڑھا رہا ہے کم از کم اس مضمون کو اس نے بی ایس سی کی سطح تک خود پڑھا ہو۔ ثانوی تعلیم کے دور میں اساتذہ عموماً اپنی تعلیمی قابلیت میں اضافہ کرتے رہتے ہیں اور مختلف موضوعات میں ایم ایڈ کی ڈگری حاصل کر لیتے ہیں۔ اس کے بعد اعلیٰ ثانوی تعلیم کا دور شروع ہوتا ہے جو چار سالوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ ان کے اساتذہ کو لیکچرر کہا جاتا ہے اور ان کی تعلیمی قابلیت کم از کم متعلقہ مضمون میں ماسٹرز ڈگری ہوتی ہے۔ اکثر اساتذہ دورانِ ملازمت اپنی تعلیمی قابلیت میں اضافہ کر لیتے ہیں اور ایم فِل اور پی ایچ ڈی تک کی اسناد حاصل کر لیتے ہیں۔ کچھ اساتذہ نے اپنی اعلیٰ قابلیت علمی اسناد اور تجربے کی بنیاد پر کالج سے جامعات میں بھی چلے جاتے ہیں اس تعلیمی دور میں بیچلرز ڈگری مکمل ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد جامعات کی تعلیم کا دور شروع ہوتا ہے۔جس کا دورانیہ اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ کس طالبعلم نے کس سند کے حصول کے لیے جامعہ میں داخلہ لیا ہے۔ اگر وہ انٹرمیڈیٹ کا امتحان پاس کرنے کے بعد آنرز کی سند حاصل کرنے کے لیے داخل ہوا ہے تو اس کا دورانیہ تین سال ہے جس کے بعد اسے آنرز کی سند مل جائے گی۔ بعد میں اگر وہ چاہے تو صرف ایک سال میں ماسٹرز کی سند حاصل کر سکتا ہے۔ اگر بیچلرز کرنے کے بعد کوئی طالب علم ماسٹرز کے لیے جامعہ میں داخل ہوتا ہے تو اس کا دورانیہ دو سال ہے جس کے بعد دو سال ایم فِل کا دورانیہ ہوتا ہے۔ عام طور پر ایم فِل میں ایک خاص موضوع پر مقالہ تحریر کیا جاتا ہے۔اگر طالبعلم اس مقالے کو پی ایچ ڈی میں تبدیل کرنے کا خواہش مند ہو اور اساتذہ اس کی اجازت دے دیں تو وہ پی ایچ ڈی کی سند کے لیے اسی مقالے پر کام کو مزید آگے بڑھانا شروع کر دیتا ہے۔ جس کے لیے عام طور پر عرصے کا تعین نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ پیشہ وارانہ تعلیم کے ادارے ہیں۔ جہاں طب‘قانون‘ تعلیم‘ تجارت اور انجینئرنگ کی تعلیم دی جاتی ہے۔ یہ ادارے بھی تین طرح کے ہوتے ہیں ایک وہ جنہیں انسٹیٹیوٹ کہا جاتا ہے جہاں چھ مہینے سے دو سال تک کی مختصر مدت کے کورسز کرائے جاتے ہیں جن کی تکمیل پر طالبعلموں کو سند(certificates) اور ڈپلومہ دیا جاتا ہے۔مثلاً بجلی‘ لکڑی‘ڈرافٹنگ وغیرہ کا سرٹیفکیٹ یا سِوِل‘ مکینیکل اور الیکٹریکل وغیرہ میں ڈپلومہ۔ان اداروں کے اساتذہ کی کم از کم مطلوبہ قابلیت ڈپلومہ ہوتی ہے البتہ یہ اساتذہ وہی مضامین پڑھاتے ہیں جو انہوں نے خود پڑھے ہوں۔ پیشہ وارانہ تعلیمی اداروں کا دوسرامرحلہ پیشہ وارانہ کالجوں سے شروع ہوتا ہے جہاں طالبعلم کے لیے داخلے کی شرط کم از کم انٹر ہوتی ہے۔ ان کالجوں میں طالبعلم چار سے پانچ سال کا عرصہ گزارتا ہے اور کسی ایک شعبے میں بیچلرز کی ڈگری حاصل کر لیتا ہے علاوہ تعلیم اور قانون کے کہ جہاں ایک سے دو سال میں بی ایڈ کی ڈگری اور تین سال میں ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کر سکتا ہے۔ اس کے بعد اگر طالب علم چاہے تو ایک سال میں ایم ایڈ اور دو سال میں ایل ایل ایم کر سکتا ہے۔ یہاں اساتذہ کی مطلوبہ تعلیم اور قابلیت کم اس کم ایم ایڈ( پیشہ وارانہ تعلیمی کالج کے لیے) اور ایل ایل بی ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ماہر قانون دان کی حیثیت سے شہرت ہوتی ہے۔

Poetry

Pinterest Share