URDU encyclopedia

اردو انسائیکلوپیڈیا

search by category

قسم کے ذریعہ تلاش کریں

search by Word

لفظ کے ذریعہ تلاش کریں

Dancer رَقّاص ∕ رَقّاصہ

English NameDancer
No name in Urdu
( Suggest ) ( تجویز کریں )
N\A

Description

تفصیل

رقص کرنے والے کو رقاص یا رقاصہ کہا جاتا ہے۔ یہ بات اب تک یقین سے نہیں کی جا سکی کہ رقص معاشرتی زندگی کا حصہ کب سے بنا۔ خیال یہ کیا جاتا ہے کہ خطرے کے حالات میں ایک ساتھ مل کر ہلنا جلنا اور آوازیں نکالنا۔۔۔۔۔ یہ رقص کی ابتدائی شکل ہو سکتی ہے۔ رقص کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ یہ ایک ایسا فن ہے جس میں ایک رقاص اپنے جسم کے مختلف اعضاء کو موسیقی کی دھن پر حرکت دیتا ہے اور ان حرکات سے وہ جذبات کا اظہار بھی کرتا ہے۔ جن کا تعلق براہِ راست معاشرتی پس منظر اور روایات سے ہوتا ہے جذبات کے اظہار کا یہ طریقہ صرف انسان ہی نہیں بلکہ حیوان بھی اختیار کرتے ہیں لہٰذا انہیں بھی اکثر اوقات ایسی حرکات و سکنات کرتے ہوئے دیکھا جا سکتاہے جنہیں رقص سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح کسرت کے مختلف طریقے‘ برف پر پھسلنے اور تیراکی کے مختلف طریقوں کو رقص کی حرکات و سکنات میں شامل کیا جا سکتا ہے جبکہ مارشل آرٹس کے کچھ طریقوں کو بھی رقص کی حدود میں رکھا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ درختوں کی پتیوں کے حرکت کرنے اور ہواؤں کے چلنے کو بھی رقص ہی کہا جاتا ہے۔ رقص چونکہ سماج‘ رسم و رواج‘ فن و ثقافت اور اخلاقی اقدار سے بہت قریبی تعلق رکھتا ہے۔ اس لیے رقاص ان تمام تقاضوں کو پیشِِ نظر رکھ کر رقص پیش کرتا یا کرتی ہے۔ ایک پیشہ ور رقاص کو اپنی صحت کا بہت زیادہ خیال رکھنا پڑتا ہے۔ کیونکہ ان کے رقص کرنے کی عمر بہت زیادہ نہیں ہوتی اس لیے اپنی آمدنی کے دوسرے ذرائع بھی وہ تلاش کرتے رہتے ہیں۔ یہ لوگ عام طور پر اپنی ذاتی حیثیت میں اپنے لیے روزگار کے مواقع تلاش کرتے ہیں۔ بعض رقاص ملازمت بھی اختیار کر لیتے ہیں ۔یہ ملازمت رقص اور موسیقی کی کسی تنظیم کی بھی ہو سکتی ہے یا کسی ہوٹل یا ایسے ہی کسی دوسرے ادارے کی جہاں رقص کی ضرورت محسوس کی جاتی ہو۔ رقاص تنہا بھی اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ جوڑے کی شکل میں بھی اور گروہ کی شکل میں بھی۔ ان تمام صورتوں میں جو بات اہمیت رکھتی ہے وہ یہ ہے کہ رقاص یا رقاصہ کے جسم کے اعضاء کو کس طرح استعمال کرتے ہیں۔ ہاتھوں کی جنبش‘ مختلف جوڑوں کی حرکت اور اس حرکت کی رفتار‘ یہ تمام باتیں اہمیت رکھتی ہیں۔ اسی لیے ایک رقاص کو اپنی جسمانی صحت کو اس حد سے آگی نہ بڑھنے دینا چاہیے کہ اسے اپنے فن کی ادائیگی میں دقت پیش آئے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ ہر رقاص اپنی خوراک کے ساتھ ساتھ روزانہ کسرت کا بھی خاص اہتمام کرے۔ جب یہ رقص اپنے مخصوص معاشرتی رویوں کا اظہار کرتا ہے‘ تو مغرب اور مشرق کے معاشروں کے درمیان جو فرق ہے‘ وہ رقص میں واضح ہو کر نظر آتا ہے۔ مسلم معاشرے میں نہ صرف یہ کہ اس کو مہذب اور شائستہ ماحول میں پسند نہیں کیا جاتا بلکہ مذہباً بھی اس کی اجازت نہیں ہے۔

Poetry

Pinterest Share