URDU encyclopedia

اردو انسائیکلوپیڈیا

search by category

قسم کے ذریعہ تلاش کریں

search by Word

لفظ کے ذریعہ تلاش کریں

Captain کَپتان

English NameCaptain
No name in Urdu
( Suggest ) ( تجویز کریں )
N\A

Description

تفصیل

یہ اصطلاح انگریزی زبان میں یونانی زبان کے لفظ ’’کیٹ پانو‘‘ Katepano سے لی گئی ہے جس کے معنی ہیں وہ شخص جو سب سے بڑے درجے پر فائز ہو (جو اس وقت بازنطینی فوج کا ایک بڑا افسر ہوتا تھا۔) اصطلاح کے اس پس منظر سے ہٹ کر اس لفظ کے مفاہیم میں وہ تمام افراد شامل ہیں جو کسی نہ کسی اعتبار سے کسی گروہ یا ٹیم کی سربراہی کرتے ہیں خواہ یہ گروہ فوج کا ہو‘ خواہ کسی سماجی یا تجارتی تنظیم کا ہو یا کسی کھیل کا۔ یہ بات ذہن میں رہنی چاہئے کہ ان ذمہ داریوں کو ادا کرنے والے صرف تب ہی پیشوں (Profession)میں شمار کئے جائیں گے جب انہیں ان کی خدمات کی اجرت دی جارہی ہو۔ پانی کے جہاز کی تمام تر ذمہ داریاں جس شخص پر ہوتی ہیں وہ کپتان ہوتا ہے یہاں تک کہ کسی حادثے کی صورت میں وہ آخری آدمی ہوتا ہے جو جہاز چھوڑتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس کپتان کی ذمہ داریوں میں جہاز سے متعلق الف سے لیکر ے تک تمام معاملات شامل ہیں لہٰذا اس منصب پر فائز شخص کو نہ صرف فنی اور تکنیکی اعتبار سے تمام معاملات سے واقف ہونا چاہئے بلکہ نہایت ذہین اور معاملہ فہم بھی ہونا چاہئے۔ اسی طرح ہوائی جہاز کا سب سے بڑا ذمہ دار بھی کپتان ہی ہوتا ہے جو ہوائی جہاز کے فضا میں بلند ہونے کے بعد سے زمین پر واپس آنے تک تمام معاملات پر نظر رکھتا ہے اور اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ دوران پرواز کوئی ناخوشگوار صورت حال پیدا نہ ہوسکے اور اگر ایسا ہوجائے تو ہوائی جہاز کو اپنے قابو میں رکھتے ہوئے مسافروں سے ان کی نفسیات کے مطابق برتاؤ کیا جائے۔ اسی طرح کھیلوں کے حوالے سے جو کھیل ٹیم کی شکل میں کھیلے جاتے ہیں ان کا ایک ذمہ دار ہوتا ہے جسے کپتان کہا جاتا ہے۔ جہاں ایک طرف اس کا ایک اچھا کھلاڑی ہونا ضروری ہے اسی طرح اس کے اندر قائدانہ اور انتظامی صلاحیت بھی ہونی چاہئے۔ مختصراً یہ کہ ہر اجتماعی یا گروہی کام میں ایک ذمہ دار کی ضرورت ہوتی ہے جسے نہ صرف اس گروہ یا ٹیم کے مقاصد سے واقف ہونا چاہئے بلکہ ان کے حصول کے لئے جو ممکنہ اور بہترین اقدامات ہوسکتے ہیں وہ کرنے چاہئیں۔ جس شخص کو کپتان کہا جاتا ہے اس کی ذمہ داریوں کے پیش نظر اسے کوئی اور نام بھی دیا جاسکتا ہے لیکن اس کی اہمیت مُسلّم ہے کیونکہ ٹیم یا گروہ میں ایک فرد ایسا ضرور ہونا چاہئے جو ان سب میں بہتر ہو اور جس کی بات سب مانیں اور اس کے حکم پر عمل کریں۔ اس کپتان کو اسلامی اصطلاح میں امیر کہا جاتا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے مفہوم کے مطابق ’اگر تم دو ہو تو ایک کو اپنا امیر بنالو۔‘ واضح رہے کہ امیر کے حکم کی نافرمانی کی ’علاوہ غیر اسلامی ہونے کے‘ کسی اور صورت میں اجازت نہیں ہے۔

Poetry

Pinterest Share