Shair

شعر

جو مَدرسہ عشق میں بیٹھا ہی نہ ہو دل
کیا دُور اگر وہ سخنِ درد نہ سمجھے

(دل عظیم آبادی)

دید گاہِ عشق میں بالِ شکستہ ہے ہنر
کس ک رہتا ہے قفس میں بال و پر کا امتیاز

(شاہِ نصیر)

تجھ دیکھ عشق باز نہ پاسے قرار تل
قربان تج پہ جیو پدارت کیے بغیر

(غواصی)

موسمِ عشق کی آہٹ سے ہی ہر اک چیز بدل جاتی ہے
راتیں پاگل کردیتی ہیں دن دیوانے ہوجاتے ہیں

(امجد اسلام امجد)

ہلتی نئی نت اسکندری بتلا وو کرتا ہے منع
دل کے ملوک یاں آؤ مت ہوئے عشق کےیم میں غریق

(ہاشمی)

بلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہ ہائے گل
کہتے ہیں جس کو عشق خلل ہے دماغ کا

(غالب)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 163

Poetry

Pinterest Share