Shair

شعر

درد کی رہگزار میں، چلتے تو کس خمار میں
چشم کہ بے نگاہ تھی، ہونٹ کہ بے خطاب تھے

(امجد اسلام امجد)

پھوٹیں گے اب نہ ہونٹ کی ڈالی پہ کیا گلاب!
آئے گی اب نہ لوٹ کے آنکھوں میں کیا، وہ نیند!

(امجداسلام امجد)

طلب جو ہو بھی تو ہم ہونٹ بند رکھتے ہیں
کہ ہم انا کا عَلم سربلند رکھتے ہیں

(جمشید ‌مسرور)

کیا علم انھوں نے سیکھ لیے جو بن لکھے کو بانچے ہیں
اور بات نہیں منھ سے نکلے بن ہونٹ ہلائے جانچے ہیں

(نظیر)

خلط کی خوبی، ہونٹ توڑ لیا
جسے چاہا اسے بھنبھوڑ لیا

(انشا)

پان سے ہونٹ بھی خوں ریز کئے بیٹھے ہیں
آج تو مجھ پہ چھری تیز کئے بیٹھے ہیں

(واسوخت بحر)

First Previous
1 2 3 4 5 6
Next Last
Page 1 of 6

Poetry

Pinterest Share