Shair

شعر

پھوٹیں گے اب نہ ہونٹ کی ڈالی پہ کیا گلاب!
آئے گی اب نہ لوٹ کے آنکھوں میں کیا، وہ نیند!

(امجداسلام امجد)

خوشبو اسی دہن کی بہ از عود و مشک ہے
سو کھے ہیں تیرے ہونٹ لہو میرا خشک ہے

(آرزو لکھنوی)

کب ہو جلاد فلک مین اس گھڑ بارائے نطق
ہونٹ لاگے چاٹنے لکنت کرے منہ میں زباں

(سودا)

طلب جو ہو بھی تو ہم ہونٹ بند رکھتے ہیں
کہ ہم انا کا عَلم سربلند رکھتے ہیں

(جمشید ‌مسرور)

ترے ہونٹ خرما‘ نین تج بدام
ترے تل اہیں دانے ہور زلف دام

(قلی قطب شاہ)

سبب بھوکہہ کے اس میں ماریں گے دانت
جبھی گرپڑی ہونٹ اور جیبہ آنت

(رمضان)

First Previous
1 2 3 4 5 6
Next Last
Page 1 of 6

Poetry

Pinterest Share