Shair

شعر

ہمارے پاؤں میں تو تم نے زنجیرِ وفا ڈالی
تمہارے ہاتھ سے کیوں رشتہِ مہر و وفا چھوٹا

(وحشت)

حرکےعقب میں عازم دشت وغابھی ہے
آزاد بھی ہے سرو ریاض وفا بھی ہے

(شمیم)

یہ طرز و ادا ہے تو انسے نہ وفا ہوگی
خوباں کے خوش آیندہ اسلوب نظر آئے

(میر حسن)

بنا لیا اس نے اپنا قیدی لگا کے عہد وفا کا پھندا
رسن ہے ہاتھوں میں بے بسی کی گلے میں صبر و رضا کا پھندا

(آرزو لکھنوی)

قطع کرتا ہوں خود اپنی ہی وفا کے رشتے
کردیا شدتِ احساس نے تلوار مجھے

(شاعر لکھنوی)

قاتل کے کیوں قدم سے تڑپ کے پڑا ہے دُور
بسمل تو اپنے ہاتھ سے شرطِ وفا نہ دے

(فغاں)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 43

Poetry

Pinterest Share