Shair

شعر

سبھی سے ان دنوں روٹھا ہوا سالگتا ہوں
میں اپنے آپ کو اب بے وفا سا لگتا ہوں

(بشیر بدر)

ولی اس بے وفا کے قول پر کیا اعتبار آوے
کہ ظالم ہے دو رنگی ہے ستمگر ہے شرابی ہے

(ولی)

جاگا نہ نخلِ دار وفا پر کوئی چراغ
امجد تو سر کو شمع کیے، ہم ، چلے گئے

(امجد اسلام امجد)

عین محبت میں ہیں مِلاتے باہم جب دو چار آنکھیں
ہوتی ہیں باہم مہر و وفا سے دو آنکھوں کی چار آنکھیں

(ظفر)

کرنی ہے تو کُھل کے کرو، انکارِ وفا کی بات
بات ادھوری رہ جائے تو حسرت رہتی ہے

(امجداسلام امجد)

صد کی ہے اور بات مگر کوبری نہیں
بھولے سے اس نے سیکڑوں وعدے وفا کیے

(غالب)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 43

Poetry

Pinterest Share