Shair

شعر

اس کی نہ پوچھو دوری میں اُن نے پرسش حال ہماری نہ کی
ہم کو دیکھو مارے گئے ہیں آکر پاس وفا سے ہم

(میر تقی میر)

کچھ تو مجبوریاں بھی ہوتی ہیں
یوں کوئی بے وفا نہیں ہوتا

(بشیر ‌بدر)

جو نقش وفا تھا اُسے میٹا مرے آگے
آیا مری تقدیر کا لکھا مرے آگے

(عبیر ہندی)

وفا کیسی کہاں کا عشق جب سر پھوڑنا ٹھہرا
تو پھر ااے سنگ دل تیرا ہی سنگ آستاں کیوں ہو

(غالب)

محبت میں تمنائے وفا کیا
غرض کے دوستانے میں مزا کیا

(صفی اورنگ آبادی)

اے قصہ کو لگا دے کہیں داستاں مری
اس ذکر کو ہے قصہ اہل وفا سے ربط

(بے نظیر)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 43

Poetry

Pinterest Share