Shair

شعر

وفا کے باب میں لفظوں کے سلسلے تھے بہت
کہیں کسی کو مری جاں، مکر ہی جانا تھا

(امجد اسلام امجد)

تو بے وفا نہیں ہے مگر بے وفائی کر
اس کی نطر میں رہنے کا کچھ سلسلہ بھی ہو

(بشیر بدر)

بڑے اہلِ یقیں ہم سے جفا کو جو وفا سمجھیں
بھلے ہیں بدگماں ہی دل ہے اور بے اعتباروں کا

(گلزارِ داغ)

کیا یہ مطلب ہے کہ بر عکس وفا ہوگی جفا
جو تمہارے عہد نامے میں خط معکوس ہے

(مومن)

یوں مونہہ کو موڑنا تو طریق وفا نہیں
صدقے گئی مرا تو کوئی آسرا نہیں

(انیس)

آکہ بازار محبت میں اٹھا لی ہم نے
جنس رد کردہ بازار وفا جس کو کہیں

(فکر جمیل)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 43

Poetry

Pinterest Share