Shair

شعر

تنقید کا اصول ہے جمہوریت کی جان
مسلک ہے ناقدان وطن کا مگر غلط

(رئیس امروہوی)

کیا پھرے وہ وطن آوارہ گیا اب سو ہی
دل گم کر دہ کی کچھ خیر خبر مت پوچھو

(میر)

لاگی ہے لگن تم سوں چھڑا کون سکے گا، ہے کس میں یہ قدرت
اب مج کوں وطن اپنے لجا کون سکے گا، کر دل سوں رفاقت

(ولی)

قائم وطن کے بیچ تو آسودگی نہ ڈھونڈو
پر خار گلستان میں ہمیشہ ہیں پائے گل

(قائم)

وطن کی جس سے سبکی ہو نہ لب تک بھی وہ حزف آئے
کہیں ہندوستاں کے نام پر دھّیا نہ آ جائے

(اختر (ہری چند))

ممبئی تک ترے مشتاق چلے آئے ہیں
تیرے دیرینہ رفیقان وطن تیرے لیے!

(اختر شیرانی)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 11

Poetry

Pinterest Share