Shair

شعر

تری یہ زلف ہے شام غریباں
جبیں تیری مجھے صبح وطن ہے

(ولی)

صورت اشک سفر کردہ ہوں آوارہ مزاج
نہ پھر آنے کی ہوس ہے نہ وطن کی خواہش

(نسیم دہلوی)

قائم وطن کے بیچ تو آسودگی نہ ڈھونڈو
پر خار گلستان میں ہمیشہ ہیں پائے گل

(قائم)

کہ ترکِ وطن پہلے کیونکر کروں
مگر ہر قدم دل کو پُتھر کروں

(میر)

آبس کے رنج سے ہوے غیروں کے دل پہ بار
غربت میں خاک اڑائی لگائی وطن میں آگ

(حبیب)

کیا ہے عشق نے میری دُرونی میں وطن اپنا
کہ ہر دم ڈھونڈتے پِھرتے اچھو دامِ سخن اپنا

(حسن شوق)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 11

Poetry

Pinterest Share