Shair

شعر

وہ حسیں گھر میں نہ ٹھہرے تو تعجب کیا ہے
منزلوں دور وطن سے مہ کنعاں ٹھہرا

(الماس درخشاں)

فراقِ خلد سے گندم ہے سینہ چاک اب تک
الٰہی ہو نہ وطن سے کوئی غریب جدا

(نامعلوم)

بستے ہیں ہند میں جو خریدار ہی فقط
آغا بھی لے آتے ہیں اپنے وطن سے ہینگ

(اقبال)

ہم نے جب وادی غربت میں قدم رکھا تھا
دور تک یادِ وطن آئی تھی سمجھانے کو

(وحید الہ بادی)

بس حبّ وطن کا جپ چکے نام بہت
اب کا کرو کہ وقت ہے کام کا یہ

(حالی)

وطن کی جس سے سبکی ہو نہ لب تک بھی وہ حزف آئے
کہیں ہندوستاں کے نام پر دھّیا نہ آ جائے

(اختر (ہری چند))

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 11

Poetry

Pinterest Share