Shair

شعر

رات بھی‘ نیند بھی‘ کہانی بھی
ہائے کیا چیز ہے جوانی بھی

(فراق)

نہ مجکو بھوک دن نا نیند راتا
ہرہ کے درد سیں سینہ پراتا

(افضل جھنجانوی)

نہ آوے نیند ہمسایاں کوں مرے چلانے تھے
گلا یو آہ بھرنے تھے ہوا ہے چلچلا یارب

(غواصی)

نیند بھی تیرے بنا اب تو سزا لگتی ہے
چونک پڑتا ہوں اگر آنکھ ذرا لگتی ہے

(مرتضیٰ ‌برلاس)

بڑی شاہ کو کر یاد روئی پلائی
وہی درد دکھ میں اسے نیند آئی

(رضوان شاہ و روح افزا)

نہ تھی نیند شہ رات کوں دھاک تے
چُھٹی آج اس بھِشٹ ناپاک تے

(قطب مشتری)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 16

Poetry

Pinterest Share