Shair

شعر

اناتمنا سوں کیا کوں ماں مجھے کہتے شرم آئی
چھے مہینے کے بھتر پیروکوں پاڑی آس کاٹی نے

(ہاشمی)

تھی صبح شب عقد کہ پیک اجل آیا
دیکھا بھی نہ تھا ماں نے کہ سہرے کو بڑھایا

(انیس)

کہنا تھا پہلے سے گویا خشک ہوکر ماں کا دودھ
دل ہٹا لو اب خدارا اصغرِ بے شیر سے

(آرزو لکھنوی)

مایوسِ وصل اُس کے کیا سادہ مُرد ماں ہیں
گُزرے ہے میر اُن کو امیدوار ہر شب

(میر تقی میر)

ماں ہوں میں کلیجہ نہیں سینے میں سنبھلتا
صاحب مرے دل کو ہے کوئی ہاتھوں سے ملتا

(انیس)

بابا نے دل کو سخت کیا غم نے کھائیے
مرنا ہے ماں سے دودھ بھی تو بخشوائیے

(مونس)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 14

Poetry

Pinterest Share