Shair

شعر

اصغر کو جُدا دکھ ہو قلق ماں کو جُدا ہو
گرمی کے سبب دودھ جو گھٹ جائے تو کیا ہو

(انیس)

بولی ماں کہنے پہ صدقے دائی
وہ ترا دودھ شریکا بھائی

(شہید (غلام امام))

تھی صبح شب عقد کہ پیک اجل آیا
دیکھا بھی نہ تھا ماں نے کہ سہرے کو بڑھایا

(انیس)

سوا لنگوٹ کے تن پر تھی بس رمائی بھبو
یوں ہی وہ برف میں پالے میں رہتا ماں کا پوت

(جگ بیتی)

وئی ماں برے یہ عورتاں کرتیاںبدی بیشک تو کوئی
لاکھیاں سو جھوٹیاں‘ سوگنداں یک کے اوپر یک ڈھولتیاں

(ہاشمی)

ماں سے سوا شفیق ہیں اور حق شناس ہیں
بچے تمہارے فاطمہ زبرا کے پاس ہیں

(مراثی)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 14

Poetry

Pinterest Share