Shair

شعر

حکایت ہے ابھی پچھلے دنوں کی
کوئی لڑکی تھی ننھی کامنی سی

(ابن انشائ)

جو کھانا کھائے اس کو تم نہ دیکھو
کہیں گے لوگ لڑکی ہے ندیدی

(عبیر ہندی)

آنکھوں میں بھرے اشک یہ لڑکی جو ہے خاموش
کرتے پہ لہو جس کے ہے زخمی ہے بن گوش

(انیس)

ہم اپنی لڑکی انھیں نہ دیں گے وہ ایسا کیا گھر وہ ایسا کیا بر
کرو ہمارے نہ گھر میں تم یاں اب اس لگائی کی بت کہانی

(نظیر اکبر آبادی)

ایک لڑکی بہت سے پھول لیے
دل کی دہلیز پر کھڑی ہوگی

(بشیر بدر)

مشکی مڑی ہے رات سے جو ٹھنڈیوں کی باگ
آرام لڑکی کرتی ہے آرام ہو گیا

(جان صاحب)

First Previous
1 2
Next Last
Page 1 of 2

Poetry

Pinterest Share