Shair

شعر

غواصی یقیں جان عورت ہے سانپ
پھبے بل تو نلدئے ہلا عذر جانپ

(غواصی)

نظر دورتے ایک عورت پہ پڑی
چادر اوڑ سر پاؤں لک آکھڑی

(کبیر)

ہے عورت اک لطیف جنس اپنے مرد کے لیے
یہ فطرت اس کی ہے کہ اس کی سمت اس کا دل کھنچے

(عالم)

پڑی ایسی دی ہے چنچل ہور چٹور
نے ڈر ہے وہ عورت جنم کی دھنڈور

(یوسف زلیخا)

نہ رہ سک وو عورت اپس شرم چھوڑ
پڑی فسق کے کام میں گھر کوں پھوڑ

(غواصی)

کہو کیا عیب ہے بولو مٹھی تاڑی سیندھی پینا
کہی اوئی عیب کو گے نیں موی عورت کوں پینے کا

(ہاشمی)

First Previous
1 2 3 4 5
Next Last
Page 1 of 5

Poetry

Pinterest Share