Shair

شعر

معرکے میں عشق کے سر کے گزرنے سے نہ ڈر
گر اٹھانا ہے یہی جو کھوں تو مرنے سے نہ ڈر

(محب)

اول کے حسن عشق کو لایا ہے راہ پر
عاشق چکور روز اسل سے ہے ماہ پر

(آتش)

شعلہ عشق کی گرمی نے شب فرقت میں
شمع ساں صبح سے پہلے ہی نبیڑا مجکو

(عیش دہلوی)

کیا سیر ہے کہ آپ تو ہنستے ہیں بام پر
اور بسملان عشق کی کوچے میں لوٹ ہے

(جرات)

جکوئی تج عشق کا مد پی متے ہو جھلنے ہارے ہیں
ہمیں عاشق انوں کے ہور انوں عاشق ہمارے ہیں

(غواصی)

تجھ عشق سوں کیا ہے ولی دل کوں بیت غم
سرعت ستی اے معنی بیگانہ من میں آ

(ولی)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 163

Poetry

Pinterest Share