Shair

شعر

غم اگرچہ جاں گسل ہے پہ کہاں بچیں کہ دل ہے
غم عشق گر نہ ہوتا غم روز گار ہونا

(غالب)

غم عشق سے تو کوئی بچ بھی جاوے
پہ جی مارتا ہے جدائی کا غم

(حسرت (جعفر علی))

اول کے حسن عشق کو لایا ہے راہ پر
عاشق چکور روز اسل سے ہے ماہ پر

(آتش)

دم بدم آہ و فغاں ہے لب پہ اپنے ان دِنوں
دیکھیے اب آگے آگے ہم کو کیا دِخھائے عشق

(معروف)

علم پر بھی عشق کی تاثیر آخر پڑ گئی
تخلیے کی بات پبلک کے دلوں میں گڑ گئی

(اکبر)

یاں قدم راہ پر سواے نہ رکھ
اے محب راہ عشق کی ہے بکٹ

(محب دہلوی)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 163

Poetry

Pinterest Share