Shair

شعر

یہ دستِ ظلم بس اب ہم پہ دلستان نہ اٹُھا
ہمیں تُو کوچے سے اپنی کشاں کشاں نہ اُٹھا

(سحر (نواب علی ))

یزیدیاں کا سو قصہ ظلم کا کوئی نا سکے کہنے
کہ جانن پن تھے شیطان ان کنے تعلیم پایا ہے

(قلی قطب شاہ)

سو اس کو ظلم ستی مل کے شامی بدذات
کیے شہید ہزاروں جفا ستی ہیہات

(کرم علی)

ظلم مت کر منجن! ولی اوپر
تجھ کوں ہے شاہ کربلا کی قسم

(ولی)

ہر موڑ پر ہیں ظلم کے پہرے لگے ہوئے
چلنا پڑے گا وقت کی رفتار دیکھ کر

(نامعلوم)

جتنا جی چاہے کریں ظلم و ستم وہ مجھ پر
مجھ میں اب نام کو بھی طاقت فریاد نہیں

(قرار)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 16

Poetry

Pinterest Share