Shair

شعر

خدایا داد لے ہور داد لے اس ظالماں کن ھے
کہ جد نہیں سو یتیماں پر جفا ہور ظلم ڈھایا ہے

(قلی قطب شاہ)

ظلم کی طرح نکالی ستم ایجاد کیا
عین شادی میں دلِ شاد کو ناشاد کیا

(واسوخت امانت)

ظلم کرکے کیوں کسی کی آہ لو
جاؤ جاؤ اپنے گھر کی راہ لو

(شوق قدوائی)

آنے والا کل

نصف صدی ہونے کو آئی
میرا گھر اور میری بستی
ظُلم کی اندھی آگ میں جل جل راکھ میں ڈھلتے جاتے ہیں
میرے لوگ اور میرے بچّے
خوابوں اور سرابوں کے اِک جال میں اُلجھے
کٹتے‘ مرتے‘ جاتے ہیں
چاروں جانب ایک لہُو کی دَلدل ہے
گلی گلی تعزیر کے پہرے‘ کوچہ کوچہ مقتل ہے
اور یہ دُنیا…!
عالمگیر اُخوّت کی تقدیس کی پہرے دار یہ دنیا
ہم کو جلتے‘ کٹتے‘ مرتے‘
دیکھتی ہے اور چُپ رہتی ہے
زور آور کے ظلم کا سایا پَل پَل لمبا ہوتا ہے
وادی کی ہر شام کا چہرہ خُون میں لتھڑا ہوتا ہے

لیکن یہ جو خونِ شہیداں کی شمعیں ہیں
جب تک ان کی لَویں سلامت!
جب تک اِن کی آگ فروزاں!
درد کی آخری حد پہ بھی یہ دل کو سہارا ہوتا ہے
ہر اک کالی رات کے پیچھے ایک سویرا ہوتا ہے!

(امجد ‌اسلام ‌امجد)

ان نالہ ہائے گرم سے جل جائے گا چمن
ایسا تو ظلم بلبل آتش زبان نہ کر

(مصحفی)

کیا ظلم تھا جو آپ کے اوپر روار ہا
تعریف سے ہے ذکر ہر اک لب پہ آپ کا

(قہر عشق)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 16

Poetry

Pinterest Share