Shair

شعر

رہے محروم تیری زلف کے مہرے سوں وہ دائم
جو کئی تیرے نین کوں زہر قاتل کر نہیں گنتے

(ولی)

کہو ہو دیکھ کر کیا زہر لب ہم ناتوانوں کو
ہماری جان میں طاقت نہیں باتیں اٹھانے کی

(میر)

جب وہاں چمکے افق میں زہر دامان سحاب
میری جانب سے وطن کو اس طرح کرنا خطاب

(مطلع انوار)

مجھ کو سوادِ خط نہیں اور عشق ہے دو حرف
جس کا نہ پیش ہے نہ زہر ہے نہ زیر ہے

(میرحسن)

ہے زہر اس میں تو دو مونہے سانپ سے بھی قہر
نیفے میں تیرے ہے جو سجیلا ازاربند

(انشا)

مجھ کو سواد خط نہیں اور عشق ہے دو حرف
جس کا نہ پیش ہے نہ زہر ہے نہ زیر ہے

(میرحسن)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 15

Poetry

Pinterest Share