Shair

شعر

نگاہیں ہیں کہ اک پیمانہ زہر ہلا ہل ہیں
ہیں افعی کا کلیں اور عقرب جرارہ ہیں ابرو

(عزیز لکھنؤی)

شربت مرگ آب حسرت شور یختی زہر غم
تلخ کامی سے مجھے کیا کیا گوارا ہو گیا

(مومن)

سر ھسین سے آواز یہ ہوئی پیدا
میں ہوں علی کا پسر جان فاطمہ زہر

(فیض بھرت پوری)

میری جوتی سے زہر کھایا ہے
مجھ کو کس بات پر ڈرایا ہے

(شوق قدوائی)

کہو ہو دیکھ کر کیا زہر لب ہم ناتوانوں کو
ہماری جان میں طاقت نہیں باتیں اٹھانے کی

(میر)

ٹھہرو کہ آئینوں پہ ابھی گرد ہے جمی
سینوں کا سارا زہر نگاہوں میں آگیا

(وزیر ‌آغا)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 15

Poetry

Pinterest Share