Shair

شعر

وہ سب کچھ سنی ان سنی کر گئے
رہے ہم یہاں زہر اگلتے ہوئے

(ظہیر دہلوی)

جو زہر پی چکا ہوں تمہیں نے مجھے دیا
اب تم تو زندگی کی دعائیں مجھے نہ دو

(احمد ‌فراز)

عجیب زہر تھا محرومیوں کا حاصل بھی
بدن پہ چل نہ سکا‘ روح تک اُتر بھی گیا

(جمشید ‌مسرور)

میری جوتی سے زہر کھایا ہے
مجھ کو کس بات پر ڈرایا ہے

(شوق قدوائی)

ڈمرو بجا کے وہ جو اتارے ہیں زہر مار
آپ ہی وہ کھیلتے ہیں ہلا سر زمیں پہ مار

(نظیر)

ہے ضرر میرے مقدر میں اثر کے بعد
زلف سے زہر ملا شیر و شکر کے بدلے

(واجد علی شاہ)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 15

Poetry

Pinterest Share