Shair

شعر

آکر ہماری قبر پہ اوس نے چڑھائے گل
آخر کو جذب دل نے یہاں بھی کھلائے گل

(مصحفی)

مرا دل تمہارے لئے ہمدمو!
ہے حصن منیع و مکان مصؤں

(مزمور میر مغنی)

ماہِ محرم سوز سوں آیا اُبل دل تیز سوں
عالم روتا یک ریز سوں کیا کام کیتا ہائے ہائے

(غواصی)

سوجھ بوجھ ان کی نہ ہو کیوں‘ نہ رہی میخواری
چشم ہے جام و دل بادہ کشاں ہے شیشہ

(عزلت)

تنہا نہ اس کے غم سے ہے دل تنگ زین کا
خوگیر کا بھی سینہ جو دیکھا تو ہے فگار

(سودا)

کبھی باتوں میں دل تھے بہلاتے
کبھی ہنس ہنس گلے سے لگ جاتے

(حسرت( جعفر علی))

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 740

Poetry

Pinterest Share