Shair

شعر

اگر تجھ حسن کامل کی سنیں تعریف مہ رُویاں
تمام آکر کریں اقرار اپنی ناتمامی کا

(ولی)

چڑھائی ہو رہی ہے حسن عالمگیر کی مجھ پر
پریزادوں نے میرے دل کے ڈانڈے کو دبایا ہے

(شرف( آغا حجو))

خط باطل مرے دل سے مٹا دے
تو اپنے حسن کا جلوہ دکھا دے

(یوسف زلیخا(ق))

جن دنوں کھینچا تھا سر اس بادشاہ حسن نے
ہر گلی میں اک فقیر اس کو دعا کرتا تھا رات

(میر)

وہ اک رکن ہے لشکرِ حسن کا تو
بجا ہے اگر کہئے دیوان بخشی

(جرأت)

دگر گوں عشق حسن یار سے ہے رنگ عالم کا
کوئی چہرہ بحال اب ہم جو سنتے ہیں تو دفتر میں

(راقم)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 81

Poetry

Pinterest Share