Shair

شعر

کے بیوفا کوں کیا آشنا کیا ہے
تو آبرو نیں کس گھاٹ لا اتارا

(دیر)

ظالم وہ بیوفا ہے عدو جس کے رشک سے
اتنا کچھ آگیا خلل اپنے نباہ میں

(مومن)

آئے ہیں میر منہ کو بنائے جفا سے آج
شاید بگڑ گئی ہے کچھ اُس بیوفا سے آج

(میر تقی میر)

میں آزما چکا ہوں نہ کھانا کوئی فریب
اس بیوفا کا قول و قسم دم سے کم نہیں

(شہیدی(کرامت علی))

لایا مرے مزار پہ اُس کو یہ جذب عشق
جس بیوفا کو نام سے بھی میرے ننگ تھا

(میر تقی میر)

تو ہے کس ناحیہ سے اے دیار عشق کیا جانوں
ترے باشندگاں ہم کاش سارے بیوفا ہوتے

(میر تقی میر)

First Previous
1 2
Next Last
Page 1 of 2

Poetry

Pinterest Share