Shair

شعر

لگے گی ہاتھ کب وہ گوری ابھری گلت‘ ہے ظالم
کف افسوس جس کے واسطے مل مل کے نالاں ہوں

(جرات)

افسوس سے ان ہاتھوں کے ملنے کے میں صدقے
کیوں روتے ہو اشک آنکھوں کے ڈھلنے کے میں صدقے

(انیس)

بے کار جی پہ بوجھ لیے پھر رہے ہوتم
دل ہے تمہارا پھول سا افسوس مت کرو

(بشیر بدر)

افسوس ہے کہ ہم تو رہے مست خواب صبح
اور آفتاب حشر لب بام آگیا

(مصحفی)

شیدا بیگم کی یہ دختر تھی، ابھی بطن سے تھی
وہ قضا کرگئی ، افسوس ہے ، جنت کو گئی

(واجد علی شاہ)

افسوس کہ درد اس کو جب تک
ہووے ہے خبر گزر گئے ہم

(درد)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 12

Poetry

Pinterest Share