Shair

شعر

جب وہ دریا کے کنارے گئے مارے افسوس
آپ صدمے سے ہوئے گور کنارے افسوس

(اوج لکھنوی)

افسوس بے شمار سخن ہائے گفتنی
خوف فساد خلق سے نا گفتہ رہ گئے

(معارف جمیل)

رہی یہ چشم نت تم سے ولے افسوس اے آنکھوں
کبھی تم نے نہ دھویا دل سے میرے داغ ہجراں کو

(حسن)

پیم نگری کی راہ غیر ولی
کوئی پاتا نہیں ہزار افسوس

(ولی)

میں بڑا چکما کھا گئی افسوس
جو ترے جل میں آگئی افسوس

(شوق)

منہ دکھاتی نہیں افسوس شب فرقت میں
رکھتی ہے عاشق جاں باز سے کیا عار سحر

(نسیم دہلوی)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 12

Poetry

Pinterest Share