Shair

شعر

افسوس وے شہید کہ جو قتل گاہ میں
لگتے ہی اُس کے ہاتھ کی تلوار مرگئے

(میر تقی میر)

جب وہ دریا کے کنارے گے مارے افسوس
آپ صدمے سے ہوئے گور کنارے افسوس

(اوج لکھنوی)

کسی کو آب و ہوا موافق ہوئی نہ افسوس اس چمن کی
ہمیشہ تھی نالہ کش عنادل، گلوں نے تا عمر خون تھوکا

(شاد عظیم آبادی)

موئے آغاز الفت میں ہمم افسوس
اسے بھی رہ گئی حسرت جفا کی

(مومن)

گویاں نہ کسی کو آئے افسوس
حالت تو ہے اپنی جائے افسوس

(قائم)

افسوس کے اشعار نے پکڑا ہے یہ رتبہ
ہر طفل کے ہاتھوں میں ہیں دیوان کے ٹکڑے

(افسوس)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 12

Poetry

Pinterest Share