Shair

شعر

اک شغل ہوا ہے کف افسوس کا مکنا
ہر وقت کی یہ ہاتھ گھسائی نہیں جاتی

(صابر دہلوی)

اب گئے اُس کے جُز افسوس نہیں کچھ حاصل
حیف صد حیف کہ کچھ قدر نہ جانی اس کی

(میر تقی میر)

افسوس کہ ان بتوں کے ہاتھوں
اب آن نبی اثر خدا ہے

(اثر)

لگے گی ہاتھ کب وہ گوری ابھری گلت‘ ہے ظالم
کف افسوس جس کے واسطے مل مل کے نالاں ہوں

(جرات)

افسوس کچھ نہ میری رہائی کا ڈھب ہوا
چھوٹا ادھر قفس سے ادھر میں طلب ہوا

(مظہر عشق)

نین یہاں پایا سو اس کو ہے وہاں
حسرت و افسوس و اندوہ و ندم

(شاہ کمال)

First Previous
1 2 3 4 5 6 7 8 9 10
Next Last
Page 1 of 12

Poetry

Pinterest Share